ہندوستان نے افغانستان کو بھیجی 5 ٹن ضروری ادویات کی کھیپ، انسانی امداد کے عزم کا اعادہ
ہندوستان نے افغانستان کو ضروری ادویات بھیج کر افغان عوام کی فلاح اور انسانی امداد کے لیے اپنی مسلسل وابستگی کا اعادہ کیا۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ امداد شعبہ صحت کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہوگی

نئی دہلی: ہندوستان نے ایک بار پھر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کی مدد کرتے ہوئے 5 ٹن ضروری ادویات کی کھیپ روانہ کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ امداد افغان عوام کی فلاح و بہبود، صحت عامہ اور انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے ہندوستان کے مسلسل تعاون کا مظہر ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان نے افغانستان کو 5 ٹن ضروری ادویات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے افغان عوام کی بہبود اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ہندوستان کے غیر متزلزل عزم کا ایک بار پھر اظہار ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ادویات کی یہ نئی کھیپ افغانستان کے صحت کے نظام کو تقویت دینے اور وہاں موجود فوری طبی ضروریات کو پورا کرنے کے مقصد سے بھیجی گئی ہے۔ ہندوستان گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کو ادویات، غذائی اشیا، ٹیکوں اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس سے قبل اپریل میں بھی ہندوستان نے افغانستان کے تپِ دق سے بچاؤ کے پروگرام کی مدد کے لیے 13 ٹن بی سی جی ٹیکے اور متعلقہ طبی سامان روانہ کیا تھا۔ وزارتِ خارجہ نے اس امداد کی باقاعدہ تصدیق بھی کی تھی۔
رواں سال افغانستان میں سیلاب اور زلزلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، جس کے بعد ہندوستان نے 5 اپریل کو انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کے لیے ضروری امدادی سامان فراہم کیا تھا۔ اسی طرح مارچ میں ہندوستان نے 2.5 ٹن ہنگامی ادویات، طبی آلات، کٹس اور دیگر سامان بھی افغانستان بھیجا تھا۔
حکومت ہند کا کہنا ہے کہ افغانستان کے عوام کے ساتھ اس کا تعاون کسی سیاسی مفاد کے بجائے انسانی ہمدردی اور علاقائی استحکام کے جذبے پر مبنی ہے۔ گزشتہ برس نومبر 2025 میں نئی دہلی میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور افغانستان کے صنعت و تجارت کے وزیر الحاج نورالدین عزیزی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی تھی، جس میں دوطرفہ تجارت، رابطہ کاری اور عوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان: عالمی مسابقت نہیں علاقائی تعاون کی ضرورت
ملاقات کے بعد ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ ہندوستان افغان عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ دونوں فریقوں نے اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط کے فروغ کے امکانات پر بھی گفتگو کی تھی۔
ہندوستان ماضی میں بھی افغانستان کے زلزلہ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے غذائی اشیا، امدادی سامان اور دیگر ضروری وسائل فراہم کرتا رہا ہے۔ حکومتِ ہند کا کہنا ہے کہ افغان عوام کی مدد اور ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے انسانی امداد کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
