کشمیر مسئلے کے حل کے لیے ہند و پاک کے درمیان مذاکرہ ہو: انتونیو گٹریس

انتونیو گٹریس نے کہا، ’کشمیر مسئلے کے حل کے لیے ہندوستان۔پاکستان کے درمیان مذاکرہ ہونا ضروری ہے۔ اگر دونوں فریق چاہیں گے تو ان کا دفتر اس معاملے میں ثالثی کرنے کو تیار ہے‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹریس نے کہا ہے کہ کشمیر مسئلہ حل کرنے کے لیے ہندوستان۔پاکستان کے درمیان مذاکرہ ہونا ضروری ہے۔ گٹریس نے کہا کہ کشمیرخطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نےکہا، ’کشمیر مسئلے کے حل کے لیے ہندوستان۔پاکستان کے درمیان مذاکرہ ہونا ضروری ہے۔ اگر دونوں فریق چاہیں گے تو ان کا دفتر اس معاملے میں ثالثی کرنے کو تیار ہے‘۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر گٹریس کا بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل آیا ہے۔ جموں و کشمیر کو ملنے والے خصوصی درجے کو ختم کیے جانے کے ہندوستان کے فیصلے کو پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اٹھانے کی تیاری ہے۔

گٹریس نے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں کہا، ’ہماری استعداد ذمہ داریوں سے معلق ہے اور ذمہ داری اسی وقت ادا کی جاسکتی ہے جب فریقین اسے قبول کریں۔ دوسری جانب یہ حمایت سے تعلق رکھتا ہے، حمایت دی جا چکی ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا‘۔

انہوں نے ایک پاکستانی صحافی کے جموں و کشمیر کی صورتحال اور کشمیر کے مسئلے کے حل کے بارے میں پوچھے جانے پر یہ ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا، ’میں اپنے اس واضح رائے پر قائم رہوں گا کہ خطے میں انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے اور واضح رائے کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلے کے حل کے لیےمذاکرے کا ہونا بے حد ضروری ہے‘۔

غورطلب ہے کہ ہندوستان نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے سے متعلق دفعہ 370 کو پانچ اگست کو ختم کردیا۔ ہندوستان کے اس اقدام کے نتیجے میں پاکستان نے نئی دہلی سے سفارتی تعلقات محدود کر لیے ہیں اور مختلف اسٹیج سے کشمیر کے مسئلے کو اٹھانے سے نہیں چوک رہا ہے۔

ہندوستان نے ہمیشہ سے جموں و کشمیر کو اپنا داخلی مسئلہ بتایا ہے اور اس معاملے کو اقوام متحدہ ہو یا پھر امریکہ، کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ہندوستان نے کشمیر مسئلے کو ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مسئلہ قرار دیا ہے۔