امریکہ میں تیزی سے بڑھے اومیکرون کے معاملے، 73 فیصد مریض نئے ویرینٹ سے متاثر

اومیکرون دنیا کے 90 ممالک میں پھیل چکا ہے اور امریکہ میں بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے لوگوں سے ویکسین لگوانے کی اپیل کی ہے

اومیکرون، تصویر آئی اے این ایس
اومیکرون، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکہ مین کووڈ19 کے نئے ہفتہ وار معاملوں میں 73 فیصد سے زیادہ معاملے اس وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے ہیں۔ بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام مرکز (سی ڈی سی) نے پیر کو یہاں یہ اطلاع دی ہے۔ سی ڈی سی کے ڈیٹا میں بتایا گیا ہے کہ 11 دسمبر کو اومیکرون معاملوں کا فیصد 12.6 تھا اور 18 دسمبر کو ہفتے کے آخر تک اس کا فیصد 73.2 ہوگیا۔

اس سے پہلے چار دسمبر کو ختم ہفتے میں انفیکشن کے سبھی معاملوں میں اومیکرون صرف 0.7 فیصد کےلئے ذمہ دار تھا۔امریکہ میں اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے اوراب تک 48 ریاستوں میں دستک دے چکا ہے۔امریکہ میں اومیکرون کا پہلامعاملہ ایک دسمبر کو آیا تھا۔

دریں اثنا، امریکہ میں اومیکرون سے پہلی موت کی بھی خبر ہے۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ میں ایک کورونا مریض کی موت ہوئی ہے جس کی وجہ اومیکرون انفیکشن سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔


اومیکرون ویرینٹ کتنا خطرناک ہے اور اس پر ویکسین کارآمد ہے یا نہیں؟ اس طرح کے سوالوں کے جواب تاحال حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ تاہم ابتدائی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین لگائی گئی ہے وہ بوسٹر ڈوز لگا کر اس انفیکشن سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بوسٹر ڈوز کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث چھڑ گئی ہے اور کئی ممالک میں بوسٹر ڈوز دی جا رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔