ٹرمپ کے خلاف سینیٹ میں بھی چلے گی مواخذے کی کارروائی

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا کہ ’’آج ہم تاریخ بنائیں گے۔ ہم ایک ایسی دہلیز کو پار کرنے جا رہے ہیں جس میں امریکی صدر کے خلاف طاقت کے غلط استعمال کو لے کر فیصلہ کیا جائے گا‘‘۔

ڈونالڈ ٹرمپ
ڈونالڈ ٹرمپ
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکہ کے ایوان زیریں کے ممبران پارلیمنٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف سینیٹ (ایوان بالا) میں مواخذے کی سماعت کی تجویز کے حق میں ووٹ دیاہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 435 ارکان والی ایوان زیریں میں ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی سینیٹ میں چلائے جانے کے حق میں 228 جبکہ مخالفت میں 193 ووٹ پڑے، جس کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے بدھ کو پولنگ کرانے اور مواخذے کی سماعت کی تجویز کو سینیٹ کے پاس بھیجنے کی بات کہی تھی۔

ٹرمپ پر دراصل اقتدار کے غلط استعمال اور پارلیمنٹ کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزامات کو لے کر 18 دسمبر کو ایوان میں مواخذے کی کارروائی چلانے کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد اب اس معاملہ کو لے کر سینیٹ میں بھی بحث کی جائے گی جس میں اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کا دبدبہ ہے۔ اس فیصلے کو لے کر اسپیکر نینسی پلوسی نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا ’’آج ہم تاریخ بنائیں گے۔ ہم تاریخ میں ایک دہلیز کو پار کرنے جا رہے ہیں جس میں امریکی صدر کے خلاف طاقت کے غلط استعمال کو لے کر فیصلہ کیا جائے گا‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ پر 2020 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ حریف بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے یوکرین کی حکومت پر دباؤ بنانے کا الزام ہے۔ بائیڈن کے بیٹے یوکرین کی ایک توانائی کمپنی میں بڑے افسر ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان گزشتہ سال 25 جولائی کو ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت اس مواخذے کے لئے ایک اہم ثبوت مانا جا رہا ہے۔ امریکہ کے 45 ویں صدر ٹرمپ ملک کی تاریخ کے تیسرے ایسے صدر ہیں جن کے خلاف مواخذے کی منظوری دی گئی ہے۔