ترکی نے اپنے دائرے سے باہر جا کر کچھ کیا تو اس کی معیشت کو برباد کر دیا جائے گا: ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کے ذریعہ شمال -مشرقی شام سے امریکی فوج ہٹانے کے اپنے فیصلے پر صفائی دی ہے۔ ان کے اس فیصلے کے بعد ترکی کے لیے شمالی شام میں کرد ملی ٹنٹوں پرحملہ کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔

ڈونالڈ ٹمپ
ڈونالڈ ٹمپ

یو این آئی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شمال۔مشرقی شام سے اپنی فوج ہٹانے کے اچانک فیصلہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ فیصلے کے بعد اگر ترکی اپنے دائرے سے باہر جاکر کچھ بھی کرتا ہے تو اس کی معیشت کو برباد کردیا جائے گا۔ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ شمالی شام میں ترکی کی فوجی مہم شروع کرنے کے فیصلے کے بعد کیا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی ٹوئٹ کرکے شمال ۔مشرقی شام سے امریکی فوج کو ہٹانے کے اپنے فیصلے پر صفائی دی ہے۔ ان کے اس فیصلے کے بعد ترکی کے لیے شمالی شام میں کرد ملی ٹنٹوں پرحملہ کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ریپبلیکن نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی تنقید کی ہے۔ کرد جنگجو شام میں دہشت گردگروہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس)اسلامک اسٹیٹ کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے اہم معاون رہے ہیں۔واضح رہے کہ ترکی کرد ملی ٹنٹوں کو دہشت گرد مانتا ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو ٹوئٹ کیا کہ انھیں ان احمقانہ کبھی ختم نہ ہونے والی جنگوں سے امریکہ کو باہر نکالنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور اس لیے ترکی، یوروپ، شام، ایران، عراق،روس اور کرد کو صورتحال پر غوروخوض کرنا ہے۔اتوار کو ڈونالڈ ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے درمیان فون پر گفتگو ہونے کے بعد وہائٹ ہاؤس نے کہا تھا، ترکی شمالی شام میں فوجی مہم شروع کرنے جارہا ہے اور اب امریکی فوج اس خطے میں نہیں رہے گی۔

بعدازاں امریکی معاون کرد کے دھوکہ دینے کے الزامات اور کئی امریکی رہنماؤں کی تنقید کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کومزید کئی ٹوئٹ کرتے ہوئے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان کے فیصلے کا فائدہ نہ اٹھائے ورنہ اس کی معیشت کو تباہ کردیں گے۔

Published: 8 Oct 2019, 7:45 PM