’افغانستان میں صورت حال خراب ہوئی تو امریکی فوج دوبارہ داخل ہو سکتی ہے‘

ریپبلکن سنیٹر گراہم لنزے کا کہنا ہے کہ ’’طالبان بہتر نہیں ہوئے، وہ نئے نہیں ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ القاعدہ کو محفوظ پناہ دینے والے ہیں جن کے عزائم ہیں کہ وہ ہمیں مشرق وسطیٰ سے نکال دیں۔‘‘

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

واشنگٹن: افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی تشکیل اور وہاں افراتفری کے درمیان امریکہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر افغانستان کی صورت حال خراب ہوئی تو امریکہ دوبارہ افغانستان میں داخل ہو سکتا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جہاں امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ کابل میں ایک جامع حکومت لانے میں اہم کردار ادا کرے، وہیں ایک قانون ساز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات خراب ہوئے تو امریکہ، افغانستان میں دوبارہ داخل ہو سکتا ہے۔ یہ بیان پاکستان کے امریکی اور اقوام متحدہ کے مندوبین کی اس یقین دہانی کے بعد سامنے آیا کہ اسلام آباد بھی کابل میں ایک جامع حکومت چاہتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ 'ہم پاکستانی قیادت کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں اور افغانستان کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے'۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ 'پاکستان نے افغانستان میں وسیع حمایت کے ساتھ ایک جامع حکومت کی مستقل اور عوامی طور پر وکالت کی ہے اور ہم اس نتیجے کو فعال کرنے میں پاکستان کو اہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں'۔


گزشتہ روز طالبان نے افغانستان میں ایک عبوری حکومت کا اعلان کیا جس میں گروپ کے پرانے رہنماؤں کا غلبہ تھا جس میں کوئی خاتون شامل نہیں تھی۔ اس اعلان سے چند گھنٹے قبل ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے تجویز پیش کی کہ اگر امریکہ ستمبر 2001 میں امریکی سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے عسکریت پسندوں کو اس ملک میں اپنی جڑیں دوبارہ پھیلانے کی اجازت دیتا ہے تو امریکہ دوبارہ مداخلت کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'طالبان بہتر نہیں ہوئے، وہ نئے نہیں ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ القاعدہ کو محفوظ پناہ دینے والے ہیں جن کے عزائم ہیں کہ وہ ہمیں مشرق وسطیٰ سے نکال دیں اور ہمارے طرز زندگی کی وجہ سے ہم پر حملہ کریں'۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم عراق اور شام کی طرح افغانستان بھی واپس جاسکتے ہیں'۔

انٹرویو لینے والے اسٹیفن شاکر نے ان کی بات کاٹتے ہوئے سوال کیا کہ 'آپ سنجیدگی سے یہ بات کر رہے ہیں کہ امریکہ ایک مرتبہ پھر مستقبل قریب میں افغانستان میں فوجیں واپس بھیجے گا'۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ 'ہمیں کرنا پڑے گا'۔ خیال رہے کہ امریکہ نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا، 2011 میں اپنی افواج کو واپس بلا لیا تھا, تاہم 3 سال بعد انہیں واپس بھیج دیا تھا۔ تقریباً 2 ہزار 500 امریکی فوجی اب بھی وہاں موجود ہیں تاہم اب تک کسی امریکی عہدیدار نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کو دوبارہ بھیجنے کی ضرورت کے بارے میں بات نہیں کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔