ایف بی آئی نے حراست کے دوران ڈرانے کی کوشش کی: ایرانی خاتون صحافی

ایرانی صحافی ہاشمی نے نامہ نگاروں کو بتایا ’’وہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حراست درست تھی لیکن میں جانتی ہوں کہ دنیا میں آزادی چاہنے والے سبھی لوگ اسے غیر قانونی حراست کہیں گے اور میں اسے اغوا کہوں گی۔‘‘

ايرانی خاتون صحافی ہاشمی
ايرانی خاتون صحافی ہاشمی

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکہ میں پیدا ہونے والی اور ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی خاتون صحافی مرضیہ ہاشمی نے ایک احتجاجی ریلی میں کہا کہ امریکی وفاقی تحقیقاتی بیورو (ایف بی آئی) نے مجھے 10 دنوں تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، ایسا کرکے مسلم آبادی میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایف بی آئی کی جانب سے ہاشمی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے خلاف جمعہ کو واشنگٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ ہاؤس میں لوگوں نے بڑی تعداد میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے امریکیوں شرم کرو کے نعرے لگانے کے ساتھ ہی انصاف اور آزادی کے اظہار کا مطالبہ کیا۔

ہاشمی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’وہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حراست درست تھی لیکن میں جانتی ہوں کہ دنیا میں آزادی چاہنے والے سبھی لوگ اسے غیر قانونی حراست کہیں گے اور میں اسے اغوا کہوں گی۔‘‘ انہوں نے میرا حجاب اتار کر مجھے جیل میں بند کر دیا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ غیر قانونی ہے۔ وہ لوگ ہم سب میں خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

ہاشمی نے الزام لگایا کہ ایف بی آئی حکام نے انہیں حراست میں رکھے جانے کی بات میڈیا میں عام نہ کرنے کے لئے بھی خبردار کیا۔

قابل ذکر ہے کہ مرضیہ ہاشمی سال 1982 سے ایران میں رہ رہی ہیں۔ انہوں نے مذہب اسلام قبول کرکے ایرانی شہری سے شادی کی تھی، وہ سال 2008 سے ایران کے سرکاری ٹی وی کے لئے کام کر رہی ہے۔

قبل ازیں امریکہ ميں پيدا ہونے والی اور ايرانی ٹيلی وژن چينل پر ايک پروگرام کی ميزبان مرضيہ ہاشمی کو دس دن حراست ميں رکھے جانے کے بعد رہا کر ديا گيا۔ اس بارے میں جاری کردہ بيان ميں مطلع کيا گيا ہے کہ مرضیہ ہاشمی نے وفاقی سطح کی ايک تفتيش ميں چار مرتبہ گواہی دی۔ انہيں منگل کی شب رہا کيا گيا اور فيڈرل گرينڈ جيوری کے سامنے انہوں نے آخری مرتبہ اسی ہفتے بدھ 23 جنوری کو گواہی دی۔ امريکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج بيرل ہاؤول نے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔

59 سالہ ہاشمی کو امريکا کے وفاقی تحقيقاتی ادارے ايف بی آئی نے سينٹ لوئيس ليمبرٹ انٹرنيشنل ايئر پورٹ سے حراست ميں اس وقت لیا گیا جب وہ اپنے بیمار والدین سے ملنے کے لئے امریکہ گئیں تھیں، انہیں دارالحکومت واشنگٹن کے ايک حراستی مرکز ميں منتقل کر ديا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی رہائی کے ليے احتجاجی مظاہروں کا مطالبہ بھی کيا تھا۔

واضح رہے کہ امريکی قانون يہ اجازت ديتا ہے کہ اگر کوئی گواہ اہم ہو، تو اسے جرم کی تفتيش کے سلسلے ميں تحويل ميں ليا جا سکتا ہے۔ امريکی حکومت نے يہ بتانے سے انکار کر ديا ہے کہ مرضيہ ہاشمی کو کس معاملے کی تفتيش کے ليے حراست ميں رکھا گيا تھا۔