ہرمز میں ہاٹ لائن قائم کی جائے گی: ایران

امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر اپنا موقف واضح کر دیا  ہے۔ محمد باقر غالباف نے کہا کہ آبی گزرگاہ پہلے جیسی نہیں ہو سکتی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

سوئٹزر لینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری  مذاکرات کے پہلے دور کے دوران کئی معاملات پر اتفاق کیا گیا، اور آبنائے ہرمز پر ایران کا موقف بڑی حد تک بدستور برقرار ہے۔ تہران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر غالباف نے پیر یعنی 22 جون کو کہا کہ آبنائے ہرمز کبھی ویسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ جنگ سے پہلے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا انتظام ایرانی کنٹرول میں ہوگا۔

مذاکرات کے بعد سوئٹزرلینڈ سے واپسی پر ایرانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے غالباف نے کہا کہ ایران نے ہرمز میں ٹیلی فون ہاٹ لائن قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس کا مقصد بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے دوران امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ کسی قسم کی غلط فہمیوں کو روکنا اور اسے دور کرنا ہے۔


سی این این کی رپورٹ کے مطابق غالباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک ٹیلی فون ہاٹ لائن اور ایک مرکز قائم کیا جائے گا جس سے جہازوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کی صورت میں اس سے رابطہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے سیکورٹی اور ٹریفک کنٹرول کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے گا اور مسائل یا غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے فوری اقدام کرے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔