ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 81ویں برسی، جاپان نے دہرائی عالمی امن اور جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی اپیل
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی برسی پر جاپان نے دنیا سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے اور عالمی امن کی اپیل کی۔ تقریب میں ماضی کی تباہ کاریوں کو یاد کرتے ہوئے نئی نسل کو امن کی جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام دیا گیا

ہیروشیما: دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکی ایٹمی حملے کو 81 برس مکمل ہونے پر جمعرات کو یادگاری تقریبات منعقد کی گئیں۔ اس موقع پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تنازعات اور جوہری ہتھیاروں کے خطرات کے پیش نظر دنیا سے امن کے فروغ اور جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی۔
ہیروشیما کے پیس میموریل پارک میں ہونے والی مرکزی تقریب میں شہر کے میئر کازومی ماتسوئی نے سالانہ ’پیس ڈیکلریشن‘ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کو معمولی سمجھنا اور اپنے مفادات کے لیے طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا دنیا کو ایک بار پھر ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی ہولناک تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی حملے کے متاثرین، جنہیں ہیباکوشا کہا جاتا ہے، کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے نئی نسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے لیے عالمی رائے عامہ کو مضبوط بنائے اور امن کے پیغام کو آگے بڑھائے۔
مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 15 منٹ پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب 6 اگست 1945 کو امریکی بمبار طیارے سے گرایا گیا ایٹمی بم ہیروشیما پر پھٹا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں 1945 کے اختتام تک تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
ہیروشیما پر حملے کے تین روز بعد امریکہ نے ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی بم گرایا، جس سے بھی ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی۔ یہ دونوں حملے آج بھی انسانی تاریخ کے سب سے ہولناک سانحات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ایٹمی حملوں کا شکار ہونے والا دنیا کا واحد ملک جاپان طویل عرصے سے اپنے تین غیر جوہری اصولوں پر عمل کرتا آیا ہے، جن کے تحت ملک نہ تو جوہری ہتھیار رکھے گا، نہ ان کی تیاری کرے گا اور نہ ہی انہیں اپنی سرزمین پر آنے کی اجازت دے گا۔
تاہم حالیہ برسوں میں ان اصولوں پر نظرثانی کی آوازیں بھی بلند ہوئی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کی حکومت جوہری ہتھیاروں کے جاپانی سرزمین میں داخلے پر پابندی سے متعلق اصول کا جائزہ لینے پر غور کر رہی ہے، جس پر ملک کے مختلف حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
جاپانی اخبار ٹوکیو شمبن کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں سانائے تاکائیچی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے ملک کے 36 صوبوں کی 128 مقامی اسمبلیوں نے جاپانی پارلیمنٹ کو قراردادیں بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ تینوں غیر جوہری اصولوں کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھا جائے۔ یہ اب تک کی سب سے بڑی عوامی و سیاسی حمایت تصور کی جا رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
