ٹرمپ کے گلے کی ہڈی بنا گرین لینڈ، قبضے کے دعوؤں کے خلاف وزیر اعظم کی قیادت میں سڑکوں پر اُترے لوگ

امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کے گرین لینڈ پلان کو وسیع حمایت نہیں مل رہی ہے۔ رائٹرس پول کے مطابق صرف 10 فیصد کا خیال ہے کہ امریکی فوج کو گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے سے متعلق بیانات کے خلاف گرین لینڈ کے شہری سڑکوں پر اُتر آئے ہیں۔ سیکڑوں مظاہرین ہفتے کے روز راجدھانی نوک کی سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ کے ممکنہ قبضہ کے دعوؤں کے خلاف آواز اُٹھاتے ہوئے زبردست احتجاج کیا۔

مظاہرین کی قیادت خود گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے کی۔ ہاتھوں میں ملک کے پرچم اور بینرز اٹھائے لوگ امریکی قونصلیٹ کی طرف مارچ کرتے نظرآئے۔ مظاہرے کے دوران واضح پیغام دیا گیا کہ گرین لینڈ کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے۔ مظاہرین اس نوتعمیربلاک کے پاس سے گزرے جہاں امریکہ اپنا قونصل خانہ منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ فی الحال امریکی قونصل خانہ ایک لال رنگ کی لکڑی کی عمارت میں کام کرتا ہے جس میں صرف 4 ملازم تعینات ہیں۔


واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی ڈنمارک کی گزارش پر یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں فوجی اہلکاروں کو تعینات کیا ہے جس سے حالات اور حساس ہوگئے ہیں۔ گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعہ بار بار دیئے گئے بیانات نے امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان سفارتی بحران پیدا کردیا ہے۔ دونوں ممالک نیٹو کے بانی رکن ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات پر یورپ میں شدید تنقید ہوئی ہے۔

گرین لینڈ کی آبادی تقریباً 57,000 ہے۔ اس علاقے پر صدیوں سے کوپن ہیگن کی حکومت رہی ہے۔ سال 1979 کے بعد سے گرین لینڈ کو کافی حد تل خود مختاری ملی ہے لیکن یہ اب بھی ڈنمارک کا حصہ ہے.دفاع اور خارجہ پالیسی ڈنمارک  کے پاس ہے اور انتظامی اخراجات کا بڑا حصہ بھی وہی برداشت کرتا ہے۔ اس تنازعہ نے اس وقت مزید زور پکڑا جب وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف (پالیسی) اسٹیفن ملر نے ٹرمپ کے اس دعوے کو دہرایا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کا دفاع نہیں کرسکتا۔


فاکس نیوز کے پروگرام’ ہینٹی‘ میں ملر نے کہا کہ کسی علاقے پر کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کا دفاع کرسکیں، اسے بہتر بناسکیں اور وہاں رہ سکیں۔ ڈنمارک ان تینوں ہی کسوٹی پر ناکام رہا ہے۔ وہیں ڈنمارک نے واضح کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ کے تحفظ کے لیے نیٹو کی مزید مستقل اور مضبوط موجودگی کے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ایک حصے کے طور پر یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں محدود تعداد میں فوجی بھیجے ہیں۔ اس سے گرین لینڈ کے لوگوں اور رہنماؤں میں بے چینی بڑھ گئی ہے لیکن انہوں نے ڈنمارک کے ساتھ یکجہتی پر زور دیا ہے۔

امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کے گرین لینڈ پلان کو وسیع حمایت نہیں مل رہی ہے۔ رائٹرس پول کے مطابق 5 میں سے 4 امریکی اس الحاق کی کوشش کی حمایت نہیں کرتے۔ صرف 10 فیصد کا خیال ہے کہ امریکی فوج کو گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔