جارج فلائیڈ معاملہ: امریکہ کے کئی شہروں میں کرفیو ختم، پولیس اصلاحات کا وعدہ

نیو یارک کے میئر بل ڈی بلساسیو نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ نیو یارک میں ختم کیا جانے والا کرفیو آخری کرفیو ہو۔

نیو یارک میئر بل ڈی بلساسیو
نیو یارک میئر بل ڈی بلساسیو
user

یو این آئی

واشنگٹن: پولیس زیادتیوں کے خلاف احتجاج کے طوفان کی شدت پر قابو پانے کے لئے کئی شہروں میں کرفیو ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ محکمہ پولیس میں اصلاحات کا وعدہ کیا گیا ہے۔ باوجود اس کے کل اتوار کے روز بی پر امن مظاہرے جاری رہے۔ نیو یارک، شکاگو، اٹلانٹا اور لاس انجیلس سمیت متعدد بڑے شہروں میں پر تشدد مظاہروں کے سبب کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ کئی ریاستوں نے مظاہرین کے مطالبات کے پیش نظر عوامی سیکورٹی اور محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا وعدہ بھی کیا ہے۔ نیو یارک کے میئر بل ڈی بلساسیو نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ نیو یارک میں ختم کیا جانے والا کرفیو آخری کرفیو ہو۔

واضح رہے کہ جارج فلائیڈ کو مِنی سوٹا کے مرکزی شہر میں چار سفید فام پولیس والوں نے حراست میں لے کر انہیں سڑک پر پیٹ کے بل گرا دیا اور پھر ایک سفید فام پولیس اہلکار اپنے گھٹنے سے ان کی گردن پر پوری طاقت سے مبینہ طور پر تقریباً نو منٹ تک دباؤ ڈالتا رہا۔ اس دوران فلائیڈ کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ خبروں کے مطابق ایک اہم تجویز یہ پیش کی گئی ہے کہ پولیس فنڈنگ میں کمی کی جائے۔


ڈوئچے ویلے کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شہروں میں عموما محکمہ پولیس کی فنڈنگ تعلیم اور ہاؤسنگ جیسے دیگر شعبوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جس میں فوری طور پر کمی کی ضرورت ہے۔ کئی حلقوں نے اس کی حمایت کی ہے اور پولیس کی فنڈنگ کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ آن لائن میڈیا کے مطابق 'ایم پی ڈی 150' نامی ایک ادارے کا کہنا ہے کہ وسائل اور فنڈنگ کو پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے سیفٹی، سپورٹ اور احتیاط کے لیے کمیونٹی سطح پر ایک نئے ماڈل کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

نیو یارک کے میئر نے بھی شہر کو مزید انصاف پسند بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے ایک سیکشن کا بجٹ اب نوجوانوں اور سوشل ورک کو فراہم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کی تادیبی کارروائیو ں سے متعلق فائلوں میں زیادہ شفافیت برتی جائے گی۔ بقول ان کے یہ اصلاحی اقدامات ایک آغاز ہے اور جلد ہی مزید تبدیلیوں کا اعلان کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔