دنیا کے سمندروں سے کچرا کم کرنے پر جی-20 ممالک رضامند

جی -20 کے ایک اجلاس میں ارکان ممالک اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ سمندروں سے پلاسٹک کا کچرا کم کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں جس کے لئے باقاعدہ اقدامات کیے جائیں اور اس ضمن میں ایک معاہدہ سائن کیا جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ٹوکیو: دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کے ممالک کا گروپ -جی 20‘ اس بات پر رضامند ہوگئے ہیں کہ سمندروں سے پلاسٹک کا کچرا کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں جو کہ سمندروں کو آلودہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پیکے مطابق جاپان میں اتوار کو ہونے والے جی -20 کے ایک اجلاس میں ارکان ممالک اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ سمندروں سے پلاسٹک کا کچرا کم کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں جس کے لئے باقاعدہ اقدامات کیے جائیں اور اس ضمن میں ایک معاہدہ سائن کیا جائے۔ معاہدے کے تحت جی -20 ممالک اس ضمن میں پابند ہوجائیں گے تاہم اس بات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں ہیں کہ سمندروں سے کچرا اٹھانے کے لیے کیا طریق کار اختیار کیا جائے گا۔


مقامی میڈیا کے مطابق یہ اقدامات رضاکارانہ طور پر اٹھائے جائیں گے اور سالانہ بنیادوں پر ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایک جاپانی اخبار کے مطابق جاپانی حکومت پرامید ہے کہ اس ضمن میں نومبر میں پہلا اجلاس منعقد ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور موثر اقدامات پر بات کی جائے گی۔ معاہدہ کے تحت نہ صرف امیر اور بڑے ممالک کو اس دائرے میں لایا جائے گا بلکہ ترقی پذیرممالک کو بھی اس کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ سمندروں میں پلاسٹک نہ پھینکیں خواہ وہ ماہی گیری کے جال ہوں یا پھر پلاسٹک کی بوتلیں ہوں۔

ٹھوس سائنسی شواہد سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ سمندروں میں گرایا جانے والا پلاسٹک وہیل سے لے کر کچھوؤں تک کی غذا میں شامل ہوکر ان کی تیز رفتار ہلاکت کی وجہ بن رہے۔ دوسری جانب یہ پلاسٹک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر بہت تیزی سے خرد ذرات یا مائیکرو پلاسٹک میں ڈھل رہا ہے۔ اب یہ سمندری جانوروں اور سی فوڈ کے ذریعے دوبارہ ہمارے کھانے کی میز تک پہنچ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔