ایف بی آئی کے سابق سربراہ کے خلاف چلے گا مقدمہ، صدر ٹرمپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا الزام
کومی نے خود پر لگے الزامات کو خارج کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’میں بے قصور ہوں۔ میں اب بھی ڈرا ہوا نہیں ہوں، مجھے آزاد اور غیر جانبدار وفاقی عدلیہ پر بھروسہ ہے۔‘‘

امریکہ کی وفاقی جانچ ایجنسی ایف بی آئی کے سابق ڈائرکٹر جیمس کومی کے خلاف مقدمہ چلے گا۔ کومی پر الزام ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچ نے منگل کو بتایا کہ وفاقی گرانڈ جیوری نے جیمس کومی پر دو مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے جو امریکہ کے صدر کو جان سے مارنے کی دھمکی سے متعلق ہیں۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ٹاڈ بلانچ نے کہا کہ محکمہ انصاف اس معاملے میں کوئی نرمی نہیں کرے گا۔ الزام ہے کہ جیمس کومی نے 15 مئی 2025 کو مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جان سے مارنے اور انہیں جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔ اس معاملے میں شمالی کیرولینا کے سابق ضلع میں مقدمہ دائر ہوا ہے۔
دوسرے معاملے میں کومی نے ٹیلی فون یا ڈیجیٹل ذریعہ سے صدر کو جان سے مارنے کی دھمکی والا پیغام بھیجا تھا۔ پریس کانفرنس میں ٹاڈ بلانچ نے کہا کہ محکمہ انصاف کبھی بھی صدر کو دھکمی دینے کی بات کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان دونوں مقدمات میں اگر جیمس کومی کو قصوروار پایا جاتا ہے تو انہیں 10-10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔
جیمس کومی کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا۔ حالانکہ ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ انہیں حراست میں لیا جائے گا یا وہ خود سپردگی کریں گے۔ وہیں جیمس کومی نے خود پر لگے الزامات کو خارج کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’میں بے قصور ہوں۔ میں اب بھی ڈرا ہوا نہیں ہوں، مجھے آزاد اور غیر جانبدار وفاقی عدلیہ پر بھروسہ ہے۔‘‘ یہ واقعہ سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کو برخاست کرنے کے کچھ ہفتوں بعد سامنے آیا ہے اور اب ٹرمپ کے ذاتی وکیل ٹاڈ بلانچ محکمہ انصاف کی قیادت کررہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔