افغانستان میں نئی ​​حکومت کا رسمی پروگرام9/11 کو، تمام ممالک کے ساتھ تعلقات اولین ترجیح

امریکا فکر مند ہے، اس نے کہا ہے کہ طالبان نے ابھی نگراں کابینہ کا اعلان کیا ہے تاہم طالبان کو ان کی باتوں سے نہیں ان کے اقدامات سے پرکھیں گے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

افغانستان میں نئی ​​حکومت کے باقاعدہ طور پر کام کاج شروع کرنے کے لیے رسمی تقریب کا انعقاد 11 ستمبر کو مقرر کیا گیا ہے۔ طالبان کے ایک ذرائع نے بتایا کہ نئی حکومت کے لیے باقاعدہ طور پر کام شروع کرنے کا رسمی پروگرام 9/11 کو یعنی 11 ستمبر کو مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے 9/11 کو امریکہ کے ٹریڈ ٹاور پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا اس لئے ممکن ہے کہ اس تاریخ کو لے کر عالمی ستح پر ہنگامہ ہو۔

ذرائع نے بتایا کہ اس تقریب میں روس ، چین ، قطر ، ترکی ، پاکستان اور ایران کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر بدھ کے روز قطر کے دورے پر گئے ہیں تاکہ دیگر ممالک کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جا سکے۔


تمام ممالک کے ساتھ تعلقات عظیم تر قومی مفاد میں استوار کیے جائیں گے

دوسری جانب طالبان کی عبوری حکو مت کی تشکیل پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان افغان طالبان کے سربراہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات عظیم تر قومی مفاد میں استوار کیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ہبۃ اللہ اخونزادہ نے عبوری حکومت بننے کے بعد ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ حکومت کے تمام امور شریعت کے مطابق چلائے جائیں گے اور دنیا کے ساتھ تعلقات عظیم تر قومی مفاد میں ہوں گے۔


ہبۃ اللہ اخونزادہ نے کہا کہ امارت اسلامی عالمی قوانین اور معاہدوں پر عمل کے لیے پُر عزم ہے، ان عالمی قوانین اور معاہدوں پر عمل کریں گے جو اسلامی قوانین کے خلاف نہیں ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، میڈیا کو اسلامی قوانین کے مطابق کام کرنا ہوگا، انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے، سفارت خانوں، عملے، قونصل خانوں کی سیکیورٹی یقینی بنائیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر اظہار تشویش کیا ہے، محکمہ خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزرا اور معاونین کی فہرست میں صرف طالبان کے رکن شامل ہیں یا ان کے ساتھی ہیں، اور کسی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا۔


امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ کابینہ کے کچھ افراد کی وابستگیوں اور ٹریک ریکارڈ پر بھی امریکا فکر مند ہے، طالبان نے ابھی نگراں کابینہ کا اعلان کیا ہے، تاہم طالبان کو ان کی باتوں سے نہیں ان کے اقدامات سے پرکھیں گے۔

چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین افغانستان میں نئی حکومت اور سربراہ سے رابطے کے لیے تیار ہے، اور بیجنگ افغانستان میں عبوری حکومت کو قوانین کی بحالی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ وہ افغانستان کی خود مختاری، آزادی اور سالمیت کا احترام کرتے ہیں۔ (یو این آئی کے انپٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔