نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس سے پہلی موت

نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس (کووڈ -19) سے ایک بزرگ خاتون کی موت ہونے کے ساتھ ہی ملک میں اس وبا سے موت کا پہلا معاملہ سامنے آیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس (کووڈ -19) سے ایک بزرگ خاتون کی موت ہونے کے ساتھ ہی ملک میں اس وبا سے موت کا پہلا معاملہ سامنے آیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کی ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ایشلے بلوم فیلڈ نے اتوار کو یومیہ پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ ساؤتھ آئی لینڈ کے ویسٹ کوسٹ علاقے کے گریماؤتھ اسپتال میں اتوار کی صبح خاتون کا انتقال ہو گیا۔ انہیں جمعہ کی صبح کورونا وائرس پازیٹو پایا گیا تھا۔

بلوم فیلڈ نے بتایا کہ بزرگ خاتون میں سب سے پہلے انفلوئنزا کا پتہ چلا تھا۔ اس کے ساتھ انفلوئنزا کے مریض کی طرح سلوک کیا گیا تھا اور طبی عملہ انفلوئنزا سے بچنے کے لئے مناسب حفاظتی سامان گیئر پہنے ہوئے تھے، جس کے بعد 21 ملازمین کو قرنطینہ میں رکھ دیا گیا ہے جومتوفیہ مریض کے قریبی رابطے میں تھے۔

نیوزی لینڈ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 60 نئے کیس سامنے آئے جس سے ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 514 ہو گئی ہے۔ کل نو افراد اسپتال میں داخل ہیں جن میں سے ایک آئی سی یو میں ہے۔ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے اس بیماری کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کئے ہیں اور ایک شخص کی موت کے بعد سے یہ اقدام اور ضروری ہو گئے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ کیسز کی تعداد میں اضافہ جاری رہ سکتی ہے۔ آرڈرن نے کہا، ”موجودہ اقدامات کے باوجود ہم اور لوگوں کو بیمار ہوتے دیکھ سکتے ہیں کیونکہ انفیکشن کی علامات سامنے آنے میں وقت لگتا ہے“۔ انہوں نے چین کو توڑنے کے لئے گھر میں رہنے کی اہمیت کو پھر دوہرایا۔ انہوں نے کہا ”ہر کوئی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے“۔

نیوزی لینڈ نے بدھ سے قومی ایمرجنسی اور ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے ’سوشل ٹرانسمیشن‘ کو کنٹرول کرنے کے لئے گھر میں ہی رہیں۔ نیوزی لینڈ نے 19 مارچ سے اپنی سرحدوں کو غیر ملکی شہریوں کے لئے بند کر دیا ہے۔