روسی ’میزائل نظام‘ کی پہلی کھیپ ترکی کے حوالے، امریکہ بے چین!

ترکی کی جانب سے روسی میزائلوں کی وصولی کے اعلان پر نیٹو اتحاد نے ’تشویش‘ کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ترکی پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ترکی نے جمعہ کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ روسی S-400 میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ اس کی سرزمین پر پہنچ گئی ہے۔ روس نے بھی میزائل سسٹم انقرہ کے حوالے کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی خبر کے مطابق ترکی کی جانب سے روسی میزائلوں کی وصولی کے اعلان پر نیٹو اتحاد نے ’تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ انقرہ پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان پابندیوں میں امریکی ساختہ F-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق خصوصی پروگرام میں ترکی کی شراکت کا خاتمہ اور جدید ترین F-35 لڑاکا طیاروں پر ترکی کے ہوا بازوں کی تربیت کا عمل معطل کر دینا شامل ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے خبردار کیا جا چکا تھا کہ اگر ترکی نے روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے سمجھوتے پر عمل درامد جاری رکھا تو انقرہ پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ روسی میزائل سسٹم نیٹو کے دفاعی نیٹ ورک سے موافقت نہیں رکھتا اور یہ امریکی F-35 طیاروں کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے جن کو ترکی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے روس کو لڑاکا جیٹ کی اڑان کے بارے میں مکمل پتا چل جائے گا۔ اس وقت دشمن کے راڈار اور گرمی کے سنسر ان طیاروں کا سراغ نہیں لگا سکتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان میں (جی – 20) سربراہ اجلاس کے ضمن میں ہونے والی ملاقات میں اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کو باور کرایا تھا کہ انقرہ کی جانب سے روسی ’S-400‘ دفاعی سسٹم کی خریداری ایک ’مسئلہ‘ ہے۔ سربراہ اجلاس کے اختتام کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ترکی S-400 سسٹم کی خریداری پر ڈٹا رہا تو اس پر امریکی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ واشنگٹن اس ڈیل کے حوالے سے کئی بار اپنی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے۔ امریکا نے اس سمجھوتے سے دست برداری کے لیے ترکی کو 31 جولائی تک کی مہلت دی ہے۔ امریکی پابندیوں کا مقصد لڑاکا طیاروں کے بیڑے کی موجودہ سطح کو کم کرنا اور ترکی کو امریکا سے F-35 جدید طیاروں اور پیٹریاٹ میزائلوں کی خریداری سے روکنا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین اور نیٹو اتحاد کے ایک رکن ملک کے اہم دفاعی عہدے دار کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحاد ترکی کو اس نظام کی عدم خریداری پر مجبور نہیں کر سکتا لیکن اگر انقرہ نے خریداری کا عمل جاری رکھا تو نیٹو اتحاد کے اندر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور دیگر دفاعی ڈیلوں پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ترکی پہلے ہی اس بات کے عزم کا اظہار کر چکا ہے وہ اس ڈیل سے دست بردار نہیں ہو گا جسے انقرہ ایک اہم کامیابی شمار کرتا ہے۔ اس سے قبل ترکی اس بات کا عزم ظاہر کر چکا ہے کہ وہ اس ڈیل سے دست بردار نہیں ہو گا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے جون کے اواخر میں اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد یہ باور کرایا تھا وہ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے سبب اپنے ملک کو پابندیوں کا نشانہ بنائے جانے پر کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کر رہے۔ ایردوآن نے اس خیال کا اظہار کیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ترکی اس میزائل سسٹم کے حوالے سے امریکا کے ساتھ اختلافات پر "بنا کسی مشکل" کے قابو پالے گا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے کچھ عرصہ پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے ضرر رساں اقدامات سے گریز کرے جو سفارت کاری اور بات چیت کے لیے خطرہ ثابت ہو اور ہمارے درمیان تعلقات کو ضرر پہنچائے۔‘‘

Published: 12 Jul 2019, 7:10 PM