ہندوستانی زراعت زبردست بحران سے دو چار : گیتا گوپی ناتھ

ہند نژاد آئی ایم ایف کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ نے کہا ہے ہندوستانی زراعت زبردست بحران کی شکار ہے ۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سویٹزر لینڈ کے شہر داووس میں آج سے شروع ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے قبل آئ ایم ایف کی چیف اکنامسٹ ہند نژاد گیتا گوپی ناتھ نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وہی بات کہی ہے جو کانگریس صدر راہل گاندھی اپنے خطاب میں بار بار کہتے رہے ہیں ۔ گیتا نے کہا ہے کہ ہندوستانی زرعی شعبہ ایک زبردست بحران کے دور سے گزر رہا ہے اور قرض معافی اس کا مستقل حل نہیں ہے ۔ یہی بات کانگریس صدر راہل گاندھی بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان میں زرعی شعبہ ایک پریشانی کے دور سے گزر رہا ہے اور قرض معافی اس کا حل نہیں ہے بلکہ کسانوں کی اس پریشانی کے حل کے لئے ہمیں ایک ساتھ مل کر سوچنا ہوگا ۔

چینل سے گفتگو کرتے ہوئے گیتا نے کہا کہ ’’ کیش سبسڈی قرض معافی کے مقابلہ زیادہ بہتر حل ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ قرض معافی جیسے فیصلوں کو اس بحران کا مستقل حل نہیں ماننا چاہئے بلکہ پیداوار بڑھانے کے لئے کسانوں کو بہتر تکنیک ، بیج اور دیگر سہولیات فراہم کرانی چاہئے تاکہ اس بحران سے باہر نکلا جا سکے ۔ واضح رہے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس کے ذریعہ کسانوں کا قرض معاف کرنے کے اعلان کو لے کر بی جے پی کافی تنقید کرتی ہے لیکن تنقید کرتے وقت وہ یہ بات بھول جاتی ہے کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس بات کو خود کہا ہے کہ قرض معافی مستقل حل نہیں ہے لیکن اس وقت جس پریشانی کے دور سے ہمارے کسان گزر رہے ہیں اس میں اس کی فوری ضرورت تھی ۔

اس موقع پر گیتا نے کہا کہ آئندہ سال ہندوستانی معیشت کے لئے اچھا ہے اور اس میں استحکام آئے گا جبکہ پوری دنیا کی معیشت مندی کا شاکر رہے گی ۔ انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ ہندوستانی معیشت کاچین سے بہتر ہونے کا امکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی شرح ترقی کا 7.5فیصد رہنے کا اندازہ ہے اور یہ سال 2020-21میں بڑھ کر 7.7 فیصد ہو سکتی ہے جبکہ اس بات کے امکان ہیں کہ اس دوران چین کی شرح ترقی صرف 6.2 فیصد رہے گی۔