آذربائیجان سرحد پر پھنسے کشمیری طلبہ، اہل خانہ کی مرکز سے فوری مدد کی اپیل
ایران میں زیرِ تعلیم 200 سے زائد کشمیری طلبہ آذربائیجان سرحد پر پھنسے ہیں۔ اہل خانہ نے مرکز سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے، جبکہ طلبہ کو مالی و طبی مشکلات کا سامنا ہے اور واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہے

سری نگر: جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد طلبہ اس وقت آذربائیجان کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث ان کے اہل خانہ شدید فکرمندی میں مبتلا ہیں اور مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ طلبہ نہ صرف مالی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ طبی مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں، ایسے میں ان کی محفوظ واپسی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ طلبہ ایران کے مختلف تعلیمی اداروں، خصوصاً اصفہان اور گلستان صوبوں میں زیرِ تعلیم تھے۔ موجودہ کشیدہ حالات کے پیش نظر طلبہ نے وطن واپسی کی کوششیں شروع کیں اور ایران-آرمینیا سرحد عبور کر لی، جو واپسی کے سفر میں ایک اہم مرحلہ تھا۔ تاہم اس کے بعد آذربائیجان کی سرحد پر انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اہل خانہ نے شکایت کی ہے کہ طلبہ کو اپنے سفر کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے پہلے ہی پریشان خاندانوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ایک والدین نے بتایا کہ موجودہ حالات میں حکومت کو کم از کم واپسی کے انتظامات خود کرنے چاہئیں تاکہ طلبہ مزید مشکلات سے بچ سکیں۔
ذرائع کے مطابق 20 مارچ سے 25 مارچ کے درمیان مختلف مرحلوں میں طلبہ کی واپسی متوقع تھی، جن میں شیراز یونیورسٹی کے طلبہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح کرمان سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی انجینئرنگ طلبہ بھی ایران-آرمینیا سرحد تک پہنچ چکے ہیں اور ویزا کلیئرنس کے منتظر ہیں۔
سب سے تشویشناک صورتحال آذربائیجان کی سرحد پر دیکھی جا رہی ہے جہاں 100 سے زائد طلبہ کاغذی کارروائی میں تاخیر کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ روزانہ صرف 6 سے 10 طلبہ کو ہی ایگزٹ کوڈ جاری کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عمل انتہائی سست ہو گیا ہے۔
کئی طلبہ 12 مارچ سے سرحد پر انتظار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی پروازیں بھی چھوٹ چکی ہیں اور انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اہل خانہ کے مطابق تقریباً 250 کشمیری طلبہ اب بھی سرحد پر موجود ہیں، جن میں سے کئی کو سینے کے انفیکشن اور فلو جیسی علامات لاحق ہو چکی ہیں، جبکہ مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 151 ہندوستانی طلبہ ایران-آذربائیجان سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ 14، 18، 19 اور 20 مارچ کی پروازوں کے حامل کچھ طلبہ کو اجازت مل چکی ہے، تاہم 15، 16 اور 17 مارچ کی بکنگ والے طلبہ اب بھی انتظار میں ہیں۔
اگرچہ کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن مجموعی صورتحال اب بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ سینکڑوں طلبہ مختلف سرحدی علاقوں میں پھنسے ہیں اور غیر یقینی حالات، مالی دباؤ اور صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس دوران اہل خانہ مسلسل حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ان کے بچوں کو جلد اور محفوظ طریقے سے وطن واپس لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق 28 فروری کو موجودہ کشیدگی کے آغاز کے وقت ایران میں 1200 سے زائد کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔ وزارتِ خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تمام ہندوستانی طلبہ کی بحفاظت واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔