حملے کی صورت میں امریکی اڈے جائز ہدف ہوں گے، ایران کا اقوامِ متحدہ کو انتباہ

ایران نے اقوامِ متحدہ کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی اقدام کیا تو خطے میں اس کے اڈے اور اثاثے نشانہ بن سکتے ہیں، جبکہ تہران نے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نیویارک: ایران نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو ارسال کیے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اپنی فوجی دھمکیوں پر عمل کرتا ہے تو خطے میں موجود اس کے فوجی اڈے، تنصیبات اور دیگر اثاثے ایران کے لیے “جائز اہداف” تصور ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید اراوانی نے اپنے خط میں کہا کہ تہران خطے میں کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کے سنگین نتائج سے آگاہ کر رہا ہے اور کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

یہ پیش رفت اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری مسئلے پر واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے محدود مدت کا عندیہ دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ ناکامی کی صورت میں برے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ایران کے مستقل مشن نے امریکی بیان بازی کو فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کا اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غیر متوقع اور بے قابو نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سکریٹری جنرل فوجی طاقت میں اضافے اور جنگی سرگرمیوں پر فکر مند ہیں اور ایران و امریکہ دونوں کو عمان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔


ایران کے جوہری پروگرام پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 17 فروری کو جنیوا میں منعقد ہوا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی نے بات چیت میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فریقین ایک ایسے مسودے پر کام کریں گے جو ممکنہ معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ادھر امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں عندیہ دیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل بھی خطے میں کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا چکی ہیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔