ایلون مسک کا مریخ پر شہر بسانے کا منصوبہ! بنیادی سہولیات کی تیاری کے لیے پہلے جائیں گے روبوٹ

ایلون مسک نے دسمبر 2026 کے لیے ایک ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب زمین اور مریخ ایک دوسرے کے قریب ترین ہوں گے۔ مسک اس دوران مریخ پر کم از کم 5 بغیر پائلٹ اسٹار شپ بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>انسان کو مریخ پر بسانے کا خواب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کیا زمین ہمیشہ رہے گی، کیا انسان زمین سے دور بھی اپنی کالونیاں قائم کرے گا، کیا دوسرے سیاروں پر بھی زندگی ممکن ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب سائنس طویل عرصے سے تلاش کر رہی ہے لیکن اب بہت سی کوششیں ثمر آور ہوتی نظرآ رہی ہیں۔ ہندوستان سمیت کئی ممالک مریخ مشن کے ذریعے اس سیارے کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے لیے کام کر رہے ہیں، جب کہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس مریخ پر شہر قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر مستقبل میں زمین پر کوئی بڑی آفت آجائے جیسے کوئی بڑا سیارچہ ٹکراجائے یا کوئی لاعلاج وائرس پھیل جائے تو ہم انسانوں کا کیا ہوگا؟ آج سے ٹھیک 10 سال پہلے میکسیکو میں ایلون مسک نے دنیا سے یہی سوال پوچھا تھا کہ ’’تاریخ دو راستوں میں بٹنے والی ہے، ایک راستہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ کے لیے زمین پر ہی رہیں اور کسی نہ کسی دن ختم ہو جائیں۔ دوسرا ایک ’ملٹی پلینیٹری اسپیسز‘ بننا‘‘۔ اسی دن مسک نے مریخ کو انسانوں کے لیے دوسرا گھر بنانے کا عہد کیا لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مسک واقعی ہمیں مریخ پر لے جانے کے لیے تیار ہیں؟ اور اگر یہ ممکن ہے تو وہاں پہلا قدم کون رکھے گا۔ ایک گوشت اور خون کے انسان کا یا لوہے سے بنے روبوٹ کا؟


مسک کا خواب ہے کہ 2050 تک مریخ پر 10 لاکھ افراد پر مشتمل ایک خود کفیل شہر ہو۔ ان کا منصوبہ کسی سائنس فکشن فلم کی طرح ہے۔ مریخ کی سرد اور زہریلی ہوا میں وہ براہ راست انسانوں کو نہیں جھونکیں گے۔ ان کا منصوبہ پہلے ٹیسلا کے آپٹیمس ہیومنائیڈ روبوٹس کو وہاں اتارنے کا ہے۔ یہ روبوٹس وہاں ایک پیشگی پارٹی کے طور پر جائیں گے اور انسانوں کے پہنچنے سے پہلے ہاؤسنگ، سولر پینلز اور سب سے اہم آکسیجن پیدا کرنے والی مشینیں تیار کریں گے۔ وہ زمین کے نیچے دبی برف تلاش کریں گے تاکہ پینے کا پانی اور راکٹ ایندھن تیار کیا جاسکے۔ اس لئے کہ جب جب انسان وہاں پہنچیں گے توانہیں بنیادی تیار ملیں۔

اس عظیم تیاری کا مرکز امریکہ کے شہر ٹیکساس میں اسپیس ایکس کا اسٹاربیس ہے۔ ایلون مسک اسے مریخ کا گیٹ وے کہتے ہیں۔ اس کا مقصد ہر سال یہاں سینکڑوں اسٹار شپ راکٹ تیار کرنا ہے۔ دنیا کے اعلیٰ انجینئر اس مشن میں مصروف ہیں اور ناسا خلائی ایندھن بھرنے جیسی ٹیکنالوجیز میں بھی تعاون کر رہا ہے۔ اس مشن کا اصل ہتھیار اسٹار شپ راکٹ ہے۔ یہ 500 فٹ اونچا اسٹیل دیو اور تک کا سب سے طاقتور راکٹ ہے۔ اس لگے ریپٹر۔ 3 انجن ایک بار میں 100 ٹن سے زیادہ سامان مریخ تک لے جا سکتے ہیں۔


مسک نے دسمبر 2026 کے لیے ایک ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب زمین اور مریخ ایک دوسرے کے قریب ترین ہوں گے۔ مسک اس دوران مریخ پر کم از کم 5 بغیر پائلٹ اسٹار شپ بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر یہ محفوظ لینڈنگ کرگئے تو تو اگلے 4 سالوں میں انسانوں کو بھیجنا شروع کیا جائے گا لیکن اگر یہ کریش ہو ئے تو مشن مزید 2 سال پیچھے رہ جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔