کورونا پر قابو پانے کے بعد چین میں طلاق کی درخواستوں کا لگا انبار

چین میں اسپرنگ بریک (وسنت کی چھٹی) کے بعد طلاق کے معاملوں میں اضافہ ایک عام بات ہے، لیکن گزشتہ سال کے مقابلے اس سال طلاق کے معاملوں میں 20 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

بیہو چمڑیا

چین میں جیسے ہی کورونا وائرس کے معاملوں میں گراوٹ درج ہونے لگی تو لاک ڈاؤن کے ضابطوں میں حکومت نے راحت دی اور کافی سارے سرکاری دفاتر میں معمول کے مطابق کام ہونے لگا۔ جہاں چین ایک طرف خود کو کورونا وائرس کی وبا سے باہر نکالنے کی پوری کوشش کر رہا ہے، وہیں ملک میں ایک دوسرا خطرناک معاملہ سامنے آ گیا ہے۔ دراصل چین میں طلاق کے معاملوں میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔ طلاق کے اسباب میں بے وفائی سے لے کر گھر کا خرچ آپس میں تقسیم کرنے کا ایشو بھی شامل ہے۔

حالانکہ چین میں اسپرنگ بریک یعنی بسنت کی چھٹیوں کے بعد طلاق میں اضافہ ایک عام بات ہے، لیکن گزشتہ سال کے مقابلے اس سال طلاق کے معاملوں میں 10 سے لے کر 20 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے لیے جو اہم اسباب بتائے گئے ہیں وہ ہیں کوارنٹائن کا وقت اور لاک ڈاؤن۔ چین میں ویسے بھی کئی سالوں سے ایک سماجی روش کے طور پر شادیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وہاں کے شہری معاملوں کی وزارت کے مطابق شادی کے رجسٹریشن میں لگاتار گراوٹ آ رہی ہے جب کہ طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وبائی امراض سماج اور سماجی روایتوں میں تبدیلی کو بڑھانے کا کام کرتی ہیں۔ چین نے 23 جنوری 2020 کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ لاک ڈاؤن کے ہٹنے کے بعد شانسی علاقہ کے شیان سٹی میں کئی اضلاع کے شادی رجسٹریشن دفاتر میں ریکارڈ تعداد میں طلاق کی درخواستیں آئی ہیں۔ مختلف مقامی چینی ذرائع کے مطابق بیلین میں شادی رجسٹریشن دفتر میں ایک دن میں طلاق کے 14 معاملے آئے۔ اسی طرح یانتا ضلع میں طلاق کے معاملے اس حد تک بڑھے کہ شادی رجسٹریشن دفتر 18 مارچ تک پوری طرح سے مصروف رہا۔

شیکیو میں بھی شادی رجسٹریشن دفتر میں طلاق سے متعلق کم از کم چار معاملے روزانہ آئے اور دفتر مارچ کے آخر تک نئی درخواستوں کو لینے کی حالت میں نہیں تھا۔ یُنان علاقہ کے کنمنگ میں کئی ضلعوں میں بھی اسی طرح کی کہانی تھی۔ چین کے ایک مقامی اخبار 'چُن چینگ وان باؤ' کے مطابق بہوا ضلع میں 24 مارچ تک طلاق کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد 201 تھی۔ گواندو ضلع میں گزشتہ سال کے مقابلے اس سال طلاق کے معاملوں میں بہت زیادہ اضافہ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

گواندو شادی رجسٹریشن دفتر میں 2 مارچ سے 25 مارچ کے درمیان طلاق کے 208 معاملے آئے۔ چینگونگ ضلع میں 25 مارچ تک طلاق کے 93 معاملے رجسٹرڈ ہوئے۔ شیشان ضلع میں شادی رجسٹریشن دفتر میں 24 مارچ تک طلاق کے لیے 200 سے زائد درخواستوں کا رجسٹریشن ہوا۔ سچوان علاقہ کے مختلف شہروں میں بھی یہی چلن دیکھا گیا۔ نجیانگ سٹی کے ڈونگ کنگ ضلع کے ہفتہ وار اخبار 'کان جونگو' کے مطابق شادی رجسٹریشن دفتر نے 10 مارچ تک طلاق کے 182 معاملے رجسٹرڈ کیے۔

طلاق کے معاملوں میں اضافہ کے کئی اسباب ہیں، مثلاً صنعتوں کے بند ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوا مالی بحران اور گھر کی ذمہ داریوں میں شراکت داری کے تعلق سے پرانا مسئلہ۔ چین میں کئی سال سے غیر شادی شدہ رہنے کا ٹرینڈ بھی زوروں پر ہے جس کی وجہ سے 2016 میں تقریباً 200 ملین لوگ سنگل تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں طلاق کا چلن بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

چین میں ایک ادارہ (روایت) کی شکل میں شادی میں بہت زیادہ سیاسی مداخلت رہی ہے۔ ایک بچہ کی پالیسی سے لے کر 2017 میں اس میں ڈھیل اور شادی شدہ جوڑے کو دوسرا بچہ پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی تک۔ چینی انتظامیہ کے لیے اس کی بوڑھی ہو رہی آبادی فکر کا موضوع ہے اور تیزی سے بڑھ رہی طلاق کی شرح گرتے ہوئے ورک فورس کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے، وہ بھی ایسے ملک میں جو کہ اس ورک فورس پر ہی منحصر ہے۔ بہت دلچسپ ہے کہ بہوا ضلع کے معاملے میں جن 90 سے زیادہ لوگوں نے طلاق کے لیے عرضی دی تھی وہ اپنے والدین کے واحد بچے ہیں۔

(مصنف نے جے این یو سے چینی زبان میں ایم اے کیا ہے۔)