ایران میں ’جانی دُشمن‘ ملک امریکہ کی مصنوعات کا بول بالا کیوں!

کہنے کو ایران پر امریکا نے اقتصادی پابندیاں لگا رکھیں ہیں، لیکن تہران کے ریستورانوں میں آپ کو لوگ خوشی سے امریکی اشیائے خورد و نوش کھاتے پیتے نظر آتے ہیں۔

پابندیوں کے باوجود ایران میں امریکی مصنوعات کی بھرمار کیسے؟
پابندیوں کے باوجود ایران میں امریکی مصنوعات کی بھرمار کیسے؟

ڈی. ڈبلیو

بات کوکا کولا کی ہو، ہائنزکیچ اپ یا دیگر امریکی چیزوں کی، اسلامی جمہوریہ ایران میں یہ سب کچھ با آسانی دستیاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی پابندیوں نے ایرانی تیل اور دیگر صنعتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ لیکن آٹھ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں مغربی فلمیں، گانے اور لباس پھر بھی ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

ایران میں اسلامی انقلاب اور امریکی سفارت خانے پر قبضے کے چالیس برس گزر چکے ہیں۔ اس دوران مسلسل 'مرگ بر امریکا‘ کے نعروں سے گونجے والے مظاہروں کے باوجود، ایران کے نوجوان امریکی مصنوعات کے دلدادہ ہیں۔

تہران یونیورسٹی کے اکیس سالہ طالب علم احمد رضایی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوکا کولا کے گھونٹ لیتے ہوئے کہا، ''امریکی طرز زندگی بہت دلکش ہے اور ہمارے لیے کوکا کولا اس لائف اسٹائل کا ایک حصہ ہے۔‘‘

ایران کے ساتھ امریکی صدر باراک اوباما اور یورپی طاقتوں نے مل کر سن دو ہزار پندرہ میں جوہری معاہدہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے صدارتی الیکشن سے پہلے اس کی مخالفت کی اور جیتنے کے بعد اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ تب سے ایران پھر سے معاشی دباؤ کا شکار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

لیکن اس کے باوجود کباب کھانے کے بعد کوکا کولا پینا ایرانی عوام کی جیسے روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ایران میں کوکا کولا اور پیپسی کا ذائقہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے لیے مشروب مقامی ایرانی کمپنیاں تیار کرتی ہیں۔ خوش گوار مشہد کمپنی کوکا کولا جب کہ نیسان شرق اور ساسان کمپنی ایران میں پیپسی کولا تیار کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ایران کی امام رضا فاؤنڈیشن سے منسلک ہیں جو کہ ایک طرح سےحکومت کا ہی حصہ ہے۔

یورو مانیٹر کی سن 2016 میں تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی مشروبات کی مارکیٹ میں کوکا کولا کا حصہ اٹھائیس جب کہ پیپسی کولا کا حصہ بیس فیصد کے قریب ہے۔

کوکا کولا کا کہنا ہے کہ ایران میں ان کے مشروبات کی فروخت امریکی پابندیوں کے خلاف نہیں ۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کی طرف سے رابطہ کرنے پر کمپنی نے کہا، ہمیں اس کام لیے محدود نوعیت کی اجازت ہے۔ کمپنی کی ایران میں کوئی ملکیت نہیں اور نہ ہی کوئی ٹھوس اثاثے ہیں۔‘‘

تاہم پیپسی کولا نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جب کہ کیچ اپ بنانے والی کرافٹ ہائنز کمپنی کا کہنا تھا، ''کئی دیگر مغربی کمپنیوں کی طرح ایران میں ہماری مصنوعات بھی مقامی ڈسٹری بیوٹر کے توسط سے فروخت کی جاتی ہیں۔ 'ٹباسکو‘ بنانے والی میکل ہینی کمپنی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ڈسٹری بیوٹرز کو اپنی مصنوعات ایران میں فروخت کرنے سے سختی سے منع کر رکھا ہے۔

ٹباسکو کی مصنوعات کی طرح کئی دیگر اشیا بھی ایران میں غیر قانونی طور پر اسمگل کر کے پہنچائی جاتی ہیں۔ تہران کے ایک بڑے شاپنگ مال میں 'ٹامز شُو‘ کمپنی کے تیار کردہ جوتے فروخت کیے جا رہے تھے لیکن کمپنی نے اس بارے میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

بہر حال ایران میں درآمد کی جانے والی امریکی مصنوعات میں سے جو چیز شاید سب سے دلچسپ ہے وہ 'تہران ریسرچ ری ایکٹر‘ ہے۔ یہ ری ایکٹر خود امریکا نے سن 1967 میں 'جوہری پروگرام برائے امن‘ کے تحت تہران کو تحفے میں دیا تھا۔

Published: 12 Jul 2019, 2:10 PM