سوئٹزرلینڈ کے ریزورٹ میں نئے سال کی تقریب کے دوران آتش زدگی، ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 47 ہوئی
سوئٹزرلینڈ کے کرانس مونٹانا اسکی ریزورٹ میں نئے سال کی شب ایک بار میں لگنے والی خوفناک آگ سے ہلاکتیں بڑھ کر 47 ہو گئیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق ممکنہ طور پر ’فلیش اوور‘ کے باعث اچانک دھماکہ اور آگ بھڑکی

سوئٹزرلینڈ کے جنوب مغربی علاقے والیس کینٹون میں واقع معروف اسکی ریزورٹ کرانس مونٹانا میں نئے سال کی شب پیش آنے والے ہولناک آتش زدگی کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 47 ہو گئی ہے، جبکہ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ یکم جنوری کی نصف شب کے فوراً بعد ایک زیرِ زمین بار میں پیش آیا، جہاں نئے سال کی تقریبات کے سلسلے میں سیکڑوں افراد، زیادہ تر نوجوان، موجود تھے۔
والیس کینٹون کی اٹارنی جنرل بیٹریس پیلود نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس سانحے کی وجہ ایک خطرناک مظہر ’فلیش اوور‘ تو نہیں تھا۔ ان کے مطابق فلیش اوور ایسی صورتِ حال کو کہتے ہیں جب بند جگہ میں موجود تمام آتش گیر اشیا اچانک ایک ساتھ بھڑک اٹھتی ہیں، جس کے نتیجے میں تیزی سے آگ پھیلتی ہے اور دھماکے جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ پیلود نے کہا کہ کئی امکانات زیرِ غور ہیں، تاہم فی الحال اسی نظریے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ واقعے کے عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں اور جائے حادثہ سے ملنے والے موبائل فونز سمیت دیگر شواہد کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ متعدد زخمیوں کے جسم جھلس گئے، جس کے باعث بعض متاثرین کی شناخت میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ زخمیوں کو والیس کینٹون کے دارالحکومت سیون کے علاوہ لوزان، زیورخ اور جنیوا کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کچھ افراد کو ضرورت پڑنے پر پڑوسی ممالک کے طبی مراکز بھیجنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے صدر نے اس سانحے کو ملک کی تاریخ کے غیر معمولی اور دل دہلا دینے والے واقعات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم اس مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ پڑوسی ممالک نے بھی زخمیوں کے علاج کے لیے طبی امداد کی پیشکش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی آگ لگنے کی اصل وجوہات اور ممکنہ ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔