کرونا وائرس سے 12,953 ہلاکتیں، 300,924 متاثرین،اٹلی میں 4825 ہلاکتیں

ادھر اٹلی میں اس کا قہر جاری ہے اور پچھلے 24گھنٹوں کے دوران اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 793 ہے اور یہ مستقل بڑھ رہی ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

دنیا کے زیادہ تر(اب تک 185) ممالک میں پھیل چکے کرونا وائرس ’کووڈ۔19‘ کی وبا تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور اب تک اس خطرناک وائرس سے 12,953لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ تقریبا 300,924افراد اس سے متاثر ہیں۔

ادھر اٹلی میں اس کا قہر جاری ہے اور پچھلے 24گھنٹوں کے دوران اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 793 ہے اور یہ مستقل بڑھ رہی ہے۔اٹلی میں گزشتہ ایک دن میں 6557 معاملہ سامنے آئے ہیں اور ابھی تک وہاں4825اموات ہو چکی ہیں ۔ہندوستان میں بھی کرونا وائرس کی وبا پھیلتی جارہی ہے اور اب تک اس سے متاثروں کی تعداد بڑھ کر 315 ہوچکی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے سلسلے اسپین کی صورت حال بھی سنگین ہےسپین کی وزارت صحت نے سنیچر کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس وبا سے تقریبا 324 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جس کی وجہ سے اس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1378 ہوگئی ہے۔ اسپین میں کرونا کے پانچ ہزار نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق اسپین میں کرونا سے متاثر لوگوں کی تعداد بڑھ کر 24926 ہوگئی ہے۔ اس وبا سے اب تک دو ہزار سے زیادہ لوگ ٹھیک بھی ہوچکے ہیں۔

کرونا وائرس کا قہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور لیکن ابھی تک اس سے سب سے زیادہ سنگین طور سے متاثر چین کے لئے راحت کی بات یہ ہے کہ ووہان میں گزشتہ تین دن سے کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔اس وائرس کے سلسلے میں تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں ہوئی موت کے 80 فیصد معاملے 60 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے تھے۔ چین میں 81008 لوگوں کو کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور تقریبا 3255 لوگوں کی اس وائرس کی زد میں آنے سے موت ہوچکی ہے۔

کرونا وائرس سے اب تک مغربی بحرالکاہل علاقے میں 3405، یوروپی علاقے میں 4899، جنوب۔مشرقی ایشیائی علاقوں میں 31، مغربی ایشیائی علاقے میں 1312، امریکہ کے نزدیک واقع علاقوں میں 178 اور افریقی علاقے میں آٹھ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ اس کے علاقہ یہ وائرس دنیا کے 185 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے۔

چین کے علاوہ کرونا وائرس اٹلی، ایران، امریکہ اور جنوبی کوریا سمیت دنیا کےکئی اور ممالک کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ اس سے متاثرین کے آدھے سے زیادہ معاملے اب چین کے باہر کے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق چین کے بعد اٹلی میں اس جان لیوا وائرس نے بڑے پیمانے پر اپنے پیر پھیلالئے ہیں۔ اٹلی میں کرونا وائرس کی وجہ سے اب تک 4032 لوگوں کی موت ہوچکی ہے، جبکہ 47021 لوگ اس سے متاثر ہیں۔دنیا کے کچھ دیگر ممالک میں بھی صورت حال بے حد سنگین ہے۔

خلیجی ملک ایران میں کرونا وائرس کا قہر جاری ہے۔ ایران میں اس وائرس کی زد میں آکر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1566 ہوچکی ہے جبکہ 20610 لوگ اس وائرس سے متاثر ہیں۔ اٹلی اور ایران کے ساتھ اسپین میں بھی کرونا وائرس بڑی تباہی پھیلارہا ہے۔

جنوبی کوریا میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 102 ہوچکی ہے جبکہ 8799 لوگ اس سے متاثر ہیں۔ امریکہ میں بھی یہ بیماری بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ امریکہ میں کرونا وائرس سے اب تک 249 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ 19285 لوگ اس سے متاثر ہیں۔

فرانس بھی سنگین طور سے اس وائرس کے زد میں ہے اور یہاں اب تک 450 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ 12612 لوگ اس سے متاثر ہیں۔ برطانیہ میں کرونا سے اب تک 178، نیدر لینڈ میں 106، جرمنی میں 48، سوئٹزرلینڈ میں 43، بلجیم میں 37، جاپان میں 33، انڈونیشا میں 32، فلپائن میں 19، سوئڈن میں 16، سین میرینو میں 14، عراق میں تیرہ، کناڈا میں بارہ، برازیل اور الجیریا میں گیارہ۔گیارہ، ترکی میں نو، ایکواڈور، مصر، آسٹریلیا، ناروے اور کروز شپ (ڈیمانڈ پرنس) میں سات۔سات، یونان ،ہنگری، مراکش، پیرو، ارجنٹینا، ملائشیا، بلغاریہ، آئرلینڈ اور پاکستان میں تین تین لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔

پڑوسی ملک پاکستان میں بھی کرونا وائرس کا اثر زیادہ ہے۔ وہاں اب تک 501 لوگوں میں کرونا وائرس کے انفیکشن کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ اس سے متاثر تین لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ بنگلہ دیش میں ابھی تک 20 لوگوں میں اس وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ اس سے متاثر ایک شخص کی موت ہوچکی ہے۔ سری لنکا میں 72 لوگو ں میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ نیپال میں ابھی تک صرف ایک شخص اس وائرس سے متاثر ہے جس کے ٹھیک ہونے کےبعد اسے چھٹی دے دی گئی ہے جبکہ افغانستان میں 22 متاثروں کا پتہ چلا ہے۔

اس خطرناک وائرس کی وبا پر اپنی فکرمندی کااظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے اس وبا کی روک تھام کے لئے ایک کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کی امداد کی پیشکش کی ہے۔ اس فنڈ کا استعمال خصوصی طور سے کمزور صحت نظام والے ممالک میں کیا جائے گا۔