یورپی یونین میں دراڑ! روس سے جنگ کے دوران ہنگری نے روک دی یوکرین کی مدد
ہنگری اور سلواکیہ کو ہونے والی روسی تیل کی سپلائی 27 جنوری سے مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روسی ڈرون حملے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے لیکن ہنگری یہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔

روس- یوکرین جنگ کے 4 سال مکمل ہونے سے عین قبل یورپی یونین (ای یو) کے اندر دراڑ مزید گہری ہو گئی ہے۔ ہنگری نے یوکرین کو دیئے جانے والے 90 ارب یورو (تقریباً 106 ارب ڈالر) کے اہم قرض کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔ وہیں ہنگری کا کہنا ہے کہ جب تک یوکرین کے راستے ہونے والی روسی تیل کی سپلائی بحال نہیں ہوتی ہے، وہ اس امداد کو آگے نہیں بڑھائے گا۔
بتادیں کہ 27 جنوری سے ہنگری اور سلواکیہ کو ہونے والی روسی تیل کی سپلائی روک دی گئی ہے۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روسی ڈرون حملے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے لیکن ہنگری یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ پائپ لائن روسی خام تیل کو یوکرین کے راستے وسطی یورپ تک پہنچاتی ہے۔ دریں اثنا ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیجارتو نے یوکرین پر بلیک میل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جب تک یوکرین تیل کی سپلائی دوبارہ شروع نہیں کرتا، ہنگری یوکرین کے حق میں ہونے والے یورپی یونین کے فیصلوں کو روکتا رہے گا۔ اس قرض کی معطلی سے دو دن پہلے ہنگری نے یوکرین کو ڈیزل کی ترسیل بھی روک دی تھی۔
واضح رہے کہ ہنگری اور سلواکیہ کو یورپی یونین کی اس پالیسی سے عارضی استثنیٰ حاصل ہے جو روسی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرتی ہے۔ دونوں ممالک نے یوکرین پر جان بوجھ کر سپلائی روکنے کا الزام لگایا ہے، حالانکہ اس کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جب تک تیل کی سپلائی بحال نہیں ہوتی، ہنگری یورپی یونین کے ان تمام فیصلوں کو روکے گا جو یوکرین کے مفاد میں ہیں۔ دسمبر میں منظور کیے جانے والے اس قرض کے پیکج کا مقصد اگلے دو سالوں کے لیے یوکرین کی فوجی اور اقتصادی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
قابل غور ہے کہ یورپی یونین کے بیشتر ممالک نے جنگ کے بعد روسی توانائی پر انحصار ختم کر دیا ہے لیکن ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان اب بھی روسی تیل اور گیس کو اپنی معیشت کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اوربان کو یورپی یونین میں کریملن (روس) کا سب سے بڑا حامی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے یوکرین کو فوجی اور اقتصادی امداد کی مسلسل مخالفت کی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔