کرائسٹ چرچ حملہ کی ویڈیو ’شیئر‘ کرنے کی پاداش میں 21 مہینے کی سزائے قید

فلپ آرپس کرائسٹ چرچ انسولیشن کمپنی کا مالک ہے اور اس نے سفید فام بالادستی کی تشہیر کرنے کے ارادے سے ویڈیو کو شیئر کیا۔ اسے قابل اعتراض مواد پھیلانے کے دو الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی ایک عدالت نے کرائسٹ چرچ شہر میں دو مسجدوں پر ہوئے دہشت گرد حملہ کی لائیو اسٹریم ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے ایک شخص کو منگل کے روز 21 مہینے کی جیل کی سزا سنائی ہے۔ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے حملوں میں 51 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 44 سالہ فلپ آرپس کرائسٹ چرچ انسولیشن کمپنی کا مالک ہے اور اس نے سفید فام بالادستی کی تشہیر کرنے کے ارادے سے ویڈیو کو شیئر کیا۔ اسے قابل اعتراض مواد پھیلانے کے دو الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

آرپس نے اپریل کے مہینے میں ویڈیو کو پھیلانے کے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ قتل عام کے ایک دن بعد تقریباً 30 لوگوں کے پاس اس نے اس ویڈیو کو بھیجا تھا۔ جب کرائسٹ چرچ ضلع عدالت کے جج اسٹیفن او ڈرسکال نے آرپس سے ویڈیو کے حوالہ سے اس کی رائے کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب دیا ’آسم ‘ (بہترین)۔

17 منٹ لمبی اس ویڈیو میں حملہ آور کو ان نمازیوں کو بے حد نزدیک سے نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو مسجد النور میں جمعہ کی نماز کے لئے اکٹھا ہوئے تھے۔ یہ مسجد حملہ کا شکار بننے والی دو مسجدوں میں سے ایک تھی۔

جج نے ملزم آرپس سے کہا، ’’آپ کا جرم مذہبی اور نسل پر مبنی نفرت کی وجہ سے کیے گئے قتل عام کی پذیرائی کرتا ہے۔ ‘‘ جج نے کہا کہ آرپس نے اپنا موازنہ ایڈولف ہٹلر کے شدت پسند نائب روڈولف ہیس سے کیا تھا۔

next