برطانیہ میں کورونا کے ریکارڈ ایک لاکھ مریضوں کی تصدیق، بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ

برطانیہ میں کورونا کی گزشتہ لہر کے دوران کورونا کیسز کی زیادہ سے زیادہ تعداد 68000 رہی تھی لیکن اس بار یہاں ہر روز نیا ریکارڈ قائم ہو رہا ہے۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو کورونا بحران مزید گہرا سکتا ہے

برطانیہ / کورونا / اومیکرون / Getty Images
برطانیہ / کورونا / اومیکرون / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا وائرس نے ایک مرتبہ پھر دنیا کے مختلف ممالک میں تباہی مچانی شروع کر دی ہے۔ برطانیہ میں ایک دن میں ایک لاکھ سے زائد کورونا کے معاملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ جبکہ گزشتہ ہفتے یہاں کورونا کے نئے کیسز کی زیادہ سے زیادہ تعداد 93045 رہی تھی۔ برطانیہ کے حکام نے بتایا کہ بدھ کے روز کورونا 106122 متاثرین کی تصدیق کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی یہاں 28 دنوں میں کورونا نے 140 افراد کی جان لی ہے۔

برطانیہ میں کورونا کی گزشتہ لہر کے دوران کورونا کیسز کی زیادہ سے زیادہ تعداد 68000 رہی تھی لیکن اس بار یہاں ہر روز نیا ریکارڈ قائم ہو رہا ہے۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو کورونا بحران مزید گہرا سکتا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے 'گیٹ بوسٹڈ ناؤ' موقف کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگلے ہفتے مزید اقدامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اومیکرون کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا۔ برطانیہ کی جوائنٹ کمیٹی برائے امیونائزیشن (جے سی وی آئی) نے کہا کہ یہ ویکسین ان بچوں کو دی جانی چاہیے جن کو کورونا کا زیادہ خطرہ ہے۔


برطانیہ میں منگل کے روز تک 968665 لوگوں کو بوسٹر ڈوز اور کورونا کی ویکسین دی گئی ہے۔ جے سی وی آئی نے کہا کہ 5 سے 11 سال کی عمر کے بچے جو جوکھم والے گروپ میں شامل ہیں انہیں پرائمری کورس یا ابتدائی طبی امداد دی جانی چاہئے۔

کورونا کے نئے خطرے کے پیش نظر ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بچوں کو فائزر بائیوٹیک کی کورونا ویکسین کی 10 مائیکرو گرام یعنی بالغوں کو دی جانے والی خوراک کا ایک تہائی دیا جائے۔ نیز پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان آٹھ ہفتوں کا وقفہ ہونا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔