کورونا وائرس: دنیا بھر میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے بعض وکلاء کا کہنا ہے کہ اب منشیات کے سوداگروں کے پاس معاشی بدحالی سے نکلنے کے لیے انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شکاگو: دنیا بھر میں پھیلنے والے مہلک وائرس کورونا کی وَبا نے جہاں بہت سے چھوٹے اور بڑے کاروبار عارضی طور پر بند کرا دیئے ہیں، وہیں اس کی وجہ سے غیر قانونی کاروبار کا بھٹہ بھی بیٹھ گیا ہے اور جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

شکاگو امریکا کے ان شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں تشدد کے واقعات عام ہیں۔ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے امریکی حکام نے دیگرعلاقوں کی طرح اس شہر کو بھی بند کر رکھا ہے۔ اس وجہ سے حالیہ ہفتوں کے دوران میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں منشیات کے دھندے کے الزام میں گرفتاریوں کی شرح میں 42 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے بعض وکلاء کا کہنا ہے کہ اب منشیات کے سوداگروں کے پاس معاشی بدحالی سے نکلنے کے لیے انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔ شکاگو میں منشیات کے معروف ڈیلروں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے ایک وکیل جوزف لوپیز بتاتے ہیں کہ ’’مجھے اب تک جو معلومات ملی ہیں، ان کے مطابق وہ (منشیات کے سوداگر) کہیں بھی، کچھ بھی فروخت کرنے کے لیے آزادانہ نقل وحرکت کے قابل نہیں رہے ہیں۔‘‘

کورونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد شکاگو میں جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر10 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔دنیا کے دوسرے شہروں میں بھی اس مہلک وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں جرائم میں کمی واقع ہوچکی ہے۔

جنگ زدہ علاقوں کے علاوہ ان شہروں میں بھی جہاں تشدد کے واقعات عام ہیں، وہاں بھی اب قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں میں کمی واقع ہوچکی ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے اس شُبے کا اظہار کیا ہے گھریلو تشدد کے واقعات رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں اور جب کورونا کے تعلق سے عاید کردہ پابندیوں کا خاتمہ ہوگا تو انھیں کچھ معلوم نہیں کہ اس وقت شہروں کے حالات کیا رُخ اختیار کریں گے۔

لاطینی امریکا میں واقع ممالک میں بھی عشروں کے بعد پہلی مرتبہ جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوچکی ہے۔ سان سلواڈور سے تعلق رکھنے والے ایک 47 سالہ تعمیراتی ورکر ایڈورڈو پرڈومو نے بتایا کہ ’’شہر میں ہلاکتیں کم ہوچکی ہیں اور گینگسٹر بھی اب لوگوں کو ہراساں نہیں کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں انھیں یہ خطرہ لاحق ہے کہ وہ بھی وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ وہ گھروں یا اپنے ٹھکانوں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں۔‘‘

ایل سلواڈور نے گزشتہ ماہ ایک دن میں اوسطاً دو ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی جبکہ چند سال قبل ایک دن میں اوسطاً 600 افراد قتل ہو رہے تھے۔ سخت سیکورٹی اقدامات اور جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان سمجھوتوں کی وجہ سے بھی جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت نقل وحرکت پر عاید مکمل پابندی سے جرائم میں مزید کمی واقع ہوگی۔

پیرو میں گزشتہ ماہ جرائم کی شرح میں 84 فی صد کمی واقع ہوئی تھی۔ لیما میں مُردوں کی تجہیز وتکفین کا کام کرنے والے راؤل گونزالیز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پہلے ایک دن میں 15 میتیں لائی جاتی تھیں، ان میں زیادہ تر مقتولین ہوتے تھے۔ اسی ہفتے راؤل کو چھے گھنٹے تک بنچ پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا پڑا ہے اور اس دوران میں ان کے پاس کوئی لاش نہیں لائی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ''ان دنوں میں قریب قریب کوئی ہلاکت نہیں ہو رہی ہے اور نہ کار حادثات رونما ہو رہے ہیں۔

ادھر جنوبی افریقہ میں پولیس نے کورونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے پہلے ہفتے میں جرائم میں نمایاں کمی کی اطلاع دی ہے۔ پولیس کے وزیر بھیکی سیلی کا کہنا تھا کہ لوگوں کی نقل وحرکت محدود کرنے کے لیے اقدامات کے بعد جبری عصمت ریزی کے 101 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 700 مقدمات کا اندراج کیا گیا تھا۔ سنگین حملوں کے واقعات 2673 سے کم ہو کر 456 رہ گئے ہیں۔ گزشتہ سال اس عرصے میں 326 افراد قتل ہوئے تھے جبکہ اب کہ صرف 94 قتل رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر نیویارک میں بھی قتل، عصمت ریزی، عام ڈکیتی، نقب زنی، حملوں، بڑی ڈکیتیوں اور کار چوری ایسے سنگین جرائم کی وارداتوں میں فروری سے مارچ تک 12 فی صد واقع ہوئی تھی۔ لاس اینجلس میں 2020 کے آغاز کے بعد بھی گزشتہ برسوں کی طرح جرائم کا سلسلہ جاری رہا تھا لیکن 15 مارچ کو شروع ہونے والے ہفتے کے بعد جب سخت حفاظتی تدابیر کے تحت لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود کردیا گیا تو اس سے جرائم کی شرح میں 30 فی صد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔

نیویارک کے محکمہ پولیس کے سابق سارجنٹ جو گیاکلون کا کہنا ہے کہ ''اب جرائم پیشہ افراد کے لیے فائدہ اٹھانے کے بہت تھوڑے مواقع رہ گئے ہیں کیونکہ بڑے نقب زنوں کو تو گھروں کے خالی ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔'' مگر اب لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں بند ہیں اور چور یا ڈکیت وہاں گھس نہیں سکتے ہیں۔

شکاگو میں فعال ایک گینگ کے سابق رکن روڈنی فلپس کے بہ قول اس وقت شہر میں منشیات کے تعلق سے گرفتاریوں کی شرح میں ضرور کمی واقع ہوئی ہے لیکن منشیات کی فروخت کا دھندا بدستور جاری ہے اور منشیات کے سوداگر اب پابندیوں کی وجہ سے اپنی حکمتِ عملیوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ان لوگوں کو تو پہلے ہی ان علاقوں میں غُربت اور موت کا سامنا ہے۔ وہ شاید اب آن لائن زیادہ مال فروخت کر رہے ہوں گے لیکن وہ محض کورونا وائرس کی وجہ سے اس دھندے کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔‘‘

next