کورونا: ماسک بنانے کے لیے 150 ملازمین نے خود کو فیکٹری میں کیا ’لاک ڈاؤن‘

افریقی ملک تیونیشیا کی ایک فیکٹری میں 150 ملازمین نے خود کو لاک ڈاؤن کر لیا تا کہ مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں کے لئے زیادہ سے زیادہ ماسک بنائے جا سکیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

پیرس: دنیا بھر میں کورونا وائرس سے فرنٹ لائن پر لڑنے والے اور مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مسیحاؤں کے لئے لوگ مختلف طریقے بھی اپنا رہے ہیں۔ افریقی ملک تیونیشیا کی ایک فیکٹری میں 150 ملازمین نے خود کو لاک ڈاؤن کر لیا تا کہ مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں کے لئے زیادہ سے زیادہ ماسک بنائے جاسکیں۔ ان ملازمین میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق فیکٹری میں ملازمین نے خود کو ایک ماہ کے لئے لاک ڈاؤن کیا ہے اور یہ افراد ایک دن میں 50 ہزار ماسک اور دیگر حفاظتی سامان تیار کر رہے ہیں۔ فیکٹری میں کام کرنے والے منیجر کا کہنا ہے کہ ایسا اقدام حب الوطنی کے تحت کیا، کیونکہ ملک میں کورونا کے خلاف جنگ جاری ہے۔ تیونسیا میں گزشتہ اتوار سے لاک ڈاؤن جاری ہے جبکہ یہاں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 227 اور مرنے والوں کی تعداد 6 ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔