واٹس ایپ چیٹ سے متعلق امریکی عدالت میں میٹا کے خلاف مقدمہ، کمپنی نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا
امریکہ میں واٹس ایپ چیٹ کی پرائیویسی سے متعلق میٹا کے خلاف مقدمہ دائر ہوا ہے، جس میں نجی پیغامات تک رسائی کے الزامات لگائے گئے ہیں، تاہم میٹا نے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے

نئی دہلی: امریکہ میں میٹا کمپنی کے خلاف واٹس ایپ کی پرائیویسی سے متعلق ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کی نجی چیٹس کے تحفظ سے متعلق کیے گئے وعدے درست نہیں ہیں۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ میٹا اور واٹس ایپ صارفین کی ذاتی گفتگو کو محفوظ رکھتے ہیں، اس کا تجزیہ کرتے ہیں اور مخصوص حالات میں ان پیغامات تک رسائی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ مقدمہ امریکہ کی سان فرانسسکو کی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ میٹا اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں نے دنیا بھر میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے اربوں صارفین کو گمراہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کمپنی نے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے دعوؤں کے ذریعے صارفین کو یہ یقین دلایا کہ ان کی چیٹس مکمل طور پر محفوظ ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اس مقدمے میں آسٹریلیا، برازیل، ہندوستان، میکسیکو اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عدالت اس معاملے کو کلاس ایکشن مقدمے کے طور پر قبول کرے تاکہ تمام متاثرہ صارفین کی نمائندگی ایک ہی کیس کے تحت کی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مقدمہ منظور ہوتا ہے تو اس سے واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
مقدمے میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ میٹا صارفین کی چیٹس کا مکمل ڈیٹا اپنے پاس رکھتی ہے اور کمپنی کے بعض ملازمین کو ان پیغامات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ عمل صارفین کے اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب میٹا نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بے بنیاد اور من گھڑت دعوؤں پر مبنی ہے اور میٹا اس کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ میٹا کے ایک ترجمان نے واضح کیا کہ یہ کہنا کہ واٹس ایپ کے پیغامات محفوظ نہیں ہیں، سراسر غلط اور بے معنی ہے۔ ان کے مطابق واٹس ایپ میں گزشتہ دس برسوں سے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود ہے، جو سگنل پروٹوکول پر مبنی ہے، اور اس نظام کے تحت پیغام صرف بھیجنے والا اور وصول کرنے والا ہی پڑھ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ واٹس ایپ کی بنیاد 2009 میں امریکہ میں جان کوم اور برائن ایکٹن نے رکھی تھی، جسے بعد ازاں 2014 میں فیس بک، جو اب میٹا کہلاتی ہے، نے 19 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا۔ واٹس ایپ آج دنیا کا سب سے مقبول موبائل میسیجنگ ایپ مانا جاتا ہے، جس کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد تین ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔