برطانیہ، نفرت انگیز خطوط کی تقسیم پر ایک مشتبہ شخص گرفتار

برطانوی پولیس نے مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز خطوط کی تقسیم کے شبے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ شخص پر   ’مسلمانوں کو سزا دیں‘ کے عنوان سے لکھے گئے گمنام خطوط کو تقسیم کرنے کا الزام ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے برطانوی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف لکھے جانے والے خطوط تقسیم کرنے کے شبے میں ایک 35 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق اس مشتبہ شخص کو منگل کے دن شمال مشرقی شہر لنکون سے حراست میں لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔

انسداد دہشت پولیس کے اعلیٰ اہلکار مارٹن سنوڈن نے ان واقعات پر ایک بیان میں کہا تھا، ’’ایسے خطوط ہماری مسلم کمیونٹی میں خوف پھیلانے کا باعث بنے ہیں۔ یہ ہمیں منقسم کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ہماری کمیونٹی نفرت انگیزی کے خلاف متحد ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں اس سال مارچ کے مہینے میں پہلی مرتبہ ایسے خطوط تقسیم کیے گئے تھے، جن میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں سرانجام دیں۔

نامعلوم افراد کی طرف سے تقسیم کیے گئے ان خطوط میں تین اپریل کو کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے کا دن قرار دیا گیا تھا۔ ان خطوط کے مطابق کسی مسجد کو جلانے کے مختلف پوائنٹس تھے اور کسی مسلمان پر تیزاب پھینکنے کے مختلف۔

مسلم کمیونٹی کے خلاف پرتشدد کارروائیوں پر اکسانے کی یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے، جب برطانیہ میں نفرت انگیزی پر مبنی جرائم کی شرح میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار سولہ اور سترہ میں ان واقعات کی شرح بڑھی ہے۔

دوسری طرف ان واقعات کے بعد برطانیہ میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی بھی کیا ہے۔ بالخصوص سوشل میڈیا پر #LoveAMuslimDay اور #WestandTogather کے ہیش ٹیگ سے ٹوئٹ کیے گئے۔ نفرت پر مبنی اس مہم پر برطانوی حکام نے بھی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد رہیں۔

سب سے زیادہ مقبول