برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اسپتال سے ڈسچارج

برطانیہ یوروپ میں وہ ملک ہے جہاں کورونا مریضوں کے ٹھیک ہونے کی شرح بہت کم ہےاوراعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف 344 افراد ہی صحت یاب ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

برطانیہ سے ویسے توکوئی اچھی خبر نہیں آ رہی ہے لیکن ایک خبر ایسی ہے جس سے برطانیہ کے ایوان اقتدار کو راحت ملی ہوگی۔ کورونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن کورونا وائرس سے مکمل صحت یاب ہونے تک اپنی سرکاری رہائش گاہ پر قیام کریں گے۔ جس کی تصدیق سرکاری اعلامیے میں بھی کی گئی ہے۔

واضح رہےکہ برطانیہ کے 55 سالہ وزیر اعظم کو پانچ اپریل کو اس وقت اسپتال منتقل کیا گیا تھا جب ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور چھہ اپریل کو ان کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا تھا۔سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ طبی ماہرین کی ہدایت کے مطابق وزیر اعظم فوری طور پر سرکاری امور انجام نہیں دیں گے۔

خیال رہے کہ بورس جانسن کے زیر علاج ہونے کے باعث ان کی کابینہ میں شامل وزرا کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ برطانیہ میں اموات کی شرح بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔برطانیہ میں اب تک کورونا وائرس کے 79ہزار کے قریب مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ حکام نے وبا سے دس ہزار کے قریب افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہےاوراعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف 344 افراد ہی صحت یاب ہوئے ہیں۔

ایک جانب صحت یاب ہونے والے افراد کی شرح بہت کم ہے تو دوسری جانب یومیہ مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔جمعرات کو برطانیہ میں 4344 کیسز سامنے آئے تھے جب جمعے کو اس تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 8681 تک جا پہنچی۔ ہفتے کو 5233 افراد میں وبا کی تصدیق کی گئی۔برطانیہ میں حکومت پر عوام کی تنقید کی ایک وجہ اس کا تاخیر سے متحرک ہونا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ یوروپ میں وہ ملک ہے جہاں کورونا مریضوں کے ٹھیک ہونے کی شرح بہت کم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔