بولیویا میں مظاہرے کے دوران 23 افراد ہلاک، 700 سے زیادہ زخمی

انتظامیہ اور سیاسی بحران کی شروعات کے بعد سے کل ملا کر، کم ازکم 23 افراد کی موت ہوگئی ہے اور 715 لوگ زخمی ہوئے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سینٹیاگو: بولیویا میں سیاسی بحران شروع ہونے کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کے دوران کم ازکم 23افراد ہلاک اور 700سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز نے سابق صدر ایوو مورالیز کے استعفی کے بعد خود کو عبوری صدر کا اعلان کرنے والی جينن آنیز کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں پر آنسو گیس کے گولے داغے اور انہیں حراست میں لے لیا۔

امریکی ریاستوں کی تنظیم (اواے ایس) سے منسلک انٹر-امریکن کمیشن آن ہیومن رائٹس نے ہفتے کو ٹوئٹ کیا،’’ہفتے کو پولس اور مسلح دستوں کی جھڑپ کے نتیجے میں نو لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور 122زخمی ہوئےتھے۔ انتظامیہ اور سیاسی بحران کی شروعات کے بعد سے کل ملا کر، کم ازکم 23افراد کی موت ہوگئی ہے اور 715دیگر زخمی ہوئے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ بولیویا میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان مورالیز اور نائب صدر الوارو گارسیا لنیرا نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ وہ گزشتہ ہفتہ سے میکسیکو میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ مورالیز کے انتخابات میں دوسری بار فاتح رہنے کے بعد 20 اکتوبر سے وہاں احتجاج و مظاہرہ ہو رہے ہیں۔ بولیویا کی اپوزیشن پارٹی نے انتخابی نتائج میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

اس کے بعد اپوزیشن رکن پارلیمنٹ جینین انیز نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ملک کے عبوری صدر کے طور پر اپنے نام کا اعلان کردیا تھا۔ مورالیز کی سوشلسٹ پارٹی نےاس کا بائیکاٹ کیاتھا۔ بولیویا کی عدالت عظمیٰ نے انیز کو عبوری صدر کے طورپر منظوری دے دی ہے۔