انسانی تجارت کا ایک اہم اڈہ ’برلن‘

جرمن پولس نے دارالحکومت برلن میں ایشیائی کھانوں کی اشیاء کی ایک معروف مارکیٹ کو انسانی تجارت کے ایک بڑے نیٹ ورک کے ایک اہم اڈے کے طور پر نشان دہی کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

جرمن حکام کا خیال ہے کہ برلن کے مضامات میں ایشین فوڈ مارکیٹ عالمی سطح پر ہونے والے انسانی کاروبار کا ایک ایسا اہم مرکز ہے، جہاں سینکٹروں انسانوں کو ویتنام سے مغربی یورپ لایا جاتا ہے۔ ان میں بہت سے کم عمر بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔

تفتیش کاروں نے آر بی بی 24 نامی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ منظم جرائم پیشہ گروہ 'ڈونگ ژوآئنگ‘ مارکیٹ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور یہاں پر تارکین وطن کو روس، پولینڈ اور بلقان ممالک کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے لایا جاتا ہے۔

'ڈونگ ژوآئنگ‘ میں تھوک کا کاروبار ہوتا ہے اور یہاں ایشیائی ممالک کے تقریباً ڈھائی سو تاجروں کی دکانیں ہیں۔

جرمن کسٹمز کے ترجمان مشائل بینڈر نے آر بی بی کو بتایا، ''ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ انسانوں کی تجارت کے ان واقعات کا ملک کے دیگر واقعات سے بھی تعلق ہے۔ مجرمانہ طریقوں سے کم عمر بچوں کو غیر قانونی طریقے سے جرمنی لایا جاتا ہے تا کہ وہ ناخن خوبصورت بنانے کے مراکز میں کام کر سکیں۔‘‘

انسانی تجارت کا جال

پولینڈ کے سرحدی نگرانی کی پولس کے ایک افسر نے آر بی بی کو بتایا کہ غیر قانونی طور پر جرمنی پہنچانے کی قیمت دس سے پندرہ ہزار یورو تک ہوتی ہے۔ یہ رقم یا تو کسی بھی تارک وطن کے گھر والے ادا کرتے ہیں یا پھر وہ کام کر کے اپنا ادھار چکاتا ہے۔ کچھ واقعات میں تومتاثرہ شخص کو ادھار چکانے کے لیے جرم کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔

ایک اور تفتیش کار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ مغربی یورپ میں موجود جرائم پیشہ گروہوں کے کہنے پر ویتنام سے لاوارث اور یتیم بچوں کو اغوا کر کے جرمنی پہنچایا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بہت سے بچے جرمنی پہنچنے کے بعد غائب بھی ہو جاتے ہیں۔ اخبار ٹاگس شپیگل کے مطابق 2012ء سے برلن میں کم از کم 472 ویتنامی بچے لاپتہ ہو چکے ہیں۔

2018ء میں وفاقی پولس نے 'ڈونگ ژوآئنگ‘ سینٹر پر چھاپا مارا تھا۔ اس دوران جعلی شادیوں کے ایسے متعدد دستاویزات قبضے میں لیے گئے تھے، جو انسانوں کے تاجر لوگوں کو ویتنام سے جرمنی لانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

next