بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور رائے شماری، سخت سکیورٹی میں 299 حلقوں میں ووٹنگ جاری

بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور جولائی چارٹر ریفرینڈم کے لیے 299 حلقوں میں ووٹنگ جاری ہے۔ ملک بھر میں 9 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جبکہ بعض مقامات سے نقدی برآمدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش میں ووٹگ کا عمل جاری / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور جولائی چارٹر ریفرینڈم (رائے شماری) کے لیے جمعرات کو صبح ساڑھے 7 بجے ووٹنگ کا آغاز ہو گیا جو شام ساڑھے 4 بجے تک جاری رہے گی۔ ملک کے 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہے جبکہ ایک حلقے میں ووٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔

انتخابی عمل کے پُرامن انعقاد کے لیے حکومت نے 4 روزہ قومی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں 9 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ حساس قرار دیے گئے پولنگ مراکز پر اضافی نفری بھی تعینات ہے۔

چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے بدھ کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کریں اور تشدد سے گریز کریں۔ ووٹنگ سے قبل مختلف علاقوں سے جماعتِ اسلامی کے کارکنان کے پاس سے نقدی کے بنڈل برآمد ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایک روز قبل شمالی بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے ایک رہنما کے قبضے سے تقریباً 74 لاکھ ٹکا برآمد ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا۔


بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے ضلع ٹھاکرگاؤں میں اپنا ووٹ ڈالا۔ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان ڈھاکہ 17 کے حلقے سے امیدوار ہیں جبکہ جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن ڈھاکہ 15 سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ نیشنل سٹیزن پارٹی کے ناہید اسلام ڈھاکہ 11 سے میدان میں ہیں اور انہیں جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 11 جماعتی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔

ڈھاکہ 8 کا حلقہ بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے مرزا عباس کا مقابلہ نیشنل سٹیزن پارٹی کے ناصرالدین پٹواری سے ہے۔ اس نشست پر نوجوان اسلام پسند رہنما شریف عثمان ہادی بھی امیدوار بننے والے تھے مگر انہیں گزشتہ دسمبر میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے جنوری 2024 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، جس کے بعد عوامی لیگ کی شیخ حسینہ نے حکومت بنائی، تاہم جولائی اور اگست 2024 میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ عوامی لیگ اس بار انتخابی عمل میں شریک نہیں کیونکہ جماعت پر پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود گوپال گنج میں رات کے وقت جھڑپوں اور دھماکہ خیز مواد پھینکے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعتِ اسلامی ماضی کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔