بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا بے قابو، 409 تک پہنچی اموات کی تعداد

بنگلہ دیش میں خسرہ کے باعث مزید 11 افراد کی موت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 409 ہو گئی۔ رپورٹ میں ویکسین نظام کی ناکامی اور عبوری حکومت کی لاپروائی کو بحران کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں خسرہ کا بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ خسرہ اور اس سے ملتی جلتی علامات کے باعث مزید 11 افراد کی موت کے بعد اس وبا سے جڑی مصدقہ اور مشتبہ اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 409 ہو گئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق محکمہ صحت خدمات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) نے بتایا کہ یہ اموات اتوار تک کے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درج کی گئیں۔

ڈی جی ایچ ایس کے مطابق چار افراد کی موت خسرہ سے ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 15 مارچ کے بعد خسرہ سے ہونے والی مصدقہ اموات کی تعداد 65 ہو گئی ہے۔ مزید سات اموات کو مشتبہ معاملات میں شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد مشتبہ اموات کی تعداد 344 تک پہنچ گئی۔

بنگلہ دیشی اخبار ’ڈھاکہ ٹربیون‘ کی رپورٹ کے مطابق انہی 24 گھنٹے کے دوران خسرہ کے 1503 نئے مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں۔ اس طرح 15 مارچ سے اب تک مشتبہ مریضوں کی مجموعی تعداد 49 ہزار 159 ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے 205 نئے معاملات میں خسرہ کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد مصدقہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 6819 تک پہنچ گئی۔


اعداد و شمار کے مطابق 15 مارچ کے بعد سے خسرہ جیسی علامات والے 34 ہزار 909 مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کرایا جا چکا ہے، جس سے صحت نظام پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر 400 سے زیادہ اموات کے بعد شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں اس وبا کو ’ٹالا جا سکنے والا بحران‘ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں سابق عبوری حکومت، جس کی قیادت محمد یونس کر رہے تھے، سے جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ حکومت نے کسی متبادل انتظام کے بغیر ایک مؤثر ویکسین خریداری نظام کو ختم کر دیا، جس کے باعث حفاظتی ٹیکوں کا نظام شدید متاثر ہوا۔ روزنامہ ’دی ڈیلی اسٹار‘ میں شائع اداریہ میں کہا گیا کہ دو دہائیوں تک بنگلہ دیش خسرہ ویکسینیشن کے معاملے میں کم آمدنی والے ممالک کے لیے ایک مثالی ماڈل سمجھا جاتا تھا، لیکن عبوری حکومت کی لاپرواہی نے اس کامیابی کو نقصان پہنچایا۔

رپورٹ کے مطابق 1998 سے جاری ’ہیلتھ، پاپولیشن اینڈ نیوٹریشن سیکٹر پروگرام‘ کو مارچ 2025 میں بغیر کسی مناسب متبادل منصوبے کے ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد ویکسین خریداری کا نظام متاثر ہوا، 14 ہزار سے زیادہ کمیونٹی کلینکوں میں دواؤں کی سپلائی کم ہو گئی اور ہنگامی ذخائر بھی ختم ہو گئے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ ایک آزاد جانچ کمیٹی قائم کی جائے تاکہ ذمہ دار افراد کا تعین کیا جا سکے اور بچوں کی اموات کے لیے جواب دہی طے ہو۔