بنگلہ دیش میں گیس کا سنگین بحران، بل بھرنے کے باوجود ڈھاکہ کے گھروں کی سپلائی بند

بنگلہ دیش میں گیس بحران نے ڈھاکہ کے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ کئی علاقوں میں مہینوں سے گیس نہیں مل رہی، مگر صارفین بل ادا کر رہے ہیں اور ایل پی جی، بجلی و دیگر متبادل ذرائع پر اضافی خرچ کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں گیس کا بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔ راجدھانی ڈھاکہ کے کئی علاقوں میں لوگوں کو گزشتہ دو سے تین ماہ سے انتہائی کم دباؤ پر گیس مل رہی ہے یا بعض مقامات پر گیس کی سپلائی تقریباً مکمل طور پر بند ہے۔ اس کے باوجود صارفین سرکاری گیس تقسیم کار کمپنی ٹِٹاس گیس کے ماہانہ بل ادا کر رہے ہیں۔

ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، گیس کی عدم دستیابی نے شہریوں کے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ کھانا پکانے اور پانی گرم کرنے کے لیے لوگ ایل پی جی سلنڈر، بجلی سے چلنے والے آلات اور دیگر متبادل ذرائع استعمال کر رہے ہیں، جبکہ کئی خاندان ہوٹلوں اور ریستورانوں سے کھانا منگوانے پر بھی مجبور ہیں۔ اس طرح انہیں اس گیس کے لیے بھی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے جو انہیں باقاعدگی سے دستیاب نہیں ہو رہی۔

ڈھاکہ کے دھان منڈی کے علاقے میں رہنے والوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ دو ماہ سے گیس نہیں ملی، لیکن وہ ٹِٹاس گیس کو مسلسل ماہانہ بل ادا کر رہے ہیں۔ لال باغ کی رہائشی خاتونِ خانہ فاریہ احمد بورشا نے بتایا کہ ان کے خاندان کو گزشتہ تین سے چار ماہ سے تقریباً گیس نہیں ملی، اس کے باوجود وہ ہر ماہ ٹِٹاس گیس کو 1080 ٹکا ادا کر رہے ہیں۔

ملک میں گیس کی طلب اور دستیابی کے درمیان بڑا فرق بھی اس بحران کی اہم وجہ ہے۔ پیٹرو بنگلہ کے اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں روزانہ گیس کی طلب تقریباً 380 کروڑ مکعب فٹ ہے، جبکہ دستیابی اس سے کافی کم ہے۔ اگست میں دستیابی تقریباً 260 کروڑ مکعب فٹ یومیہ کے آس پاس رہی تھی، جس سے طلب اور سپلائی کے درمیان تقریباً 150 کروڑ مکعب فٹ کا فرق سامنے آیا۔


بحران میں مزید شدت 21 جولائی کو موہیش کھالی میں ایکسلریٹ انرجی کے فلوٹنگ ایل این جی ٹرمینل میں آگ لگنے کے بعد آئی۔ واقعے سے ٹرمینل کے اہم برقی اور کنٹرول سسٹم متاثر ہوئے اور تقریباً 45 کروڑ مکعب فٹ یومیہ گیس کی سپلائی نظام سے کم ہو گئی۔ بعد میں ٹرمینل سے جزوی طور پر سپلائی بحال ہوئی، لیکن تکنیکی مسائل اور ایل این جی کی دستیابی میں رکاوٹوں کے باعث بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔

گیس کی کمی کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں ہے۔ ٹیکسٹائل، نٹ ویئر، کپڑوں کی رنگائی اور فنشنگ سمیت گیس پر انحصار کرنے والی صنعتوں میں بھی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ گیس کی کمی بجلی کی پیداوار اور دیگر اقتصادی سرگرمیوں پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔

صارفین کی تنظیم کنزیومرز ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش کے نائب صدر ایس ایم نذیر حسین نے ڈھاکہ ٹریبیون سے گفتگو میں سوال اٹھایا کہ جب صارفین کو مطلوبہ سروس فراہم نہیں کی جا رہی تو ان سے مکمل بل کیوں وصول کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اضافی اخراجات خاص طور پر محدود آمدنی والے اور ملازمت پیشہ خاندانوں کے لیے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔

حکومت نے مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے کنوؤں کی کھدائی کا عمل بھی شروع کیا ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق تیتاس گیس فیلڈ کے ایک نئے کنویں سے جلد تقریباً 1.25 کروڑ مکعب فٹ یومیہ گیس قومی گرڈ میں شامل ہونے کی توقع ہے، جبکہ مزید کنوؤں سے آنے والے مہینوں میں اضافی گیس حاصل ہونے کی امید ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔