ایران میں مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج، آسٹریلیا کا اپنے شہریوں کے لیے فوری انخلا کا مشورہ

ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ آسٹریلیا نے شہریوں کو فوری انخلا کا مشورہ دیا۔ اب تک درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ حکومت نے معاشی مظاہروں پر سختی سے گریز کی ہدایت دی ہے

<div class="paragraphs"><p>ایران میں مظاہرہ / سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف بھڑکنے والے احتجاج نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے، جس کے پیش نظر آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ بدھ کے روز جاری کردہ تازہ سفری ہدایت میں آسٹریلوی حکومت نے کہا کہ ایران میں موجود افراد جلد از جلد ملک سے نکل جائیں کیونکہ ملک گیر سطح پر پرتشدد احتجاج جاری ہے اور سکیورٹی صورت حال نہایت غیر مستحکم ہو چکی ہے، جو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مزید بگڑ سکتی ہے۔

یہ احتجاج 28 دسمبر کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف غصے کے نتیجے میں شروع ہوا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔ خاص طور پر مغربی علاقوں میں، جہاں کرد اور لور آبادی کی بڑی تعداد رہتی ہے، احتجاج زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

ناروے میں قائم غیر سرکاری تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق اب تک کم از کم 27 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 18 برس سے کم عمر پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے، جن میں ایک پولیس اہلکار شامل ہے جسے منگل کے روز گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔


موجودہ بدامنی کو 2022 اور 2023 کے اُن ملک گیر احتجاجات کے بعد سب سے بڑا عوامی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے جو حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہوئے تھے۔ اگرچہ موجودہ مظاہرے ابھی اُس سطح تک نہیں پہنچے، نہ ہی 2009 کے متنازع انتخابات کے بعد ہونے والی وسیع ریلیوں جیسی صورت حال بنی ہے، تاہم یہ احتجاج ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی کی واضح علامت ہیں۔

اسی دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز سکیورٹی اداروں کو ہدایت دی کہ معاشی مطالبات پر ہونے والے احتجاج کے خلاف سخت کارروائی سے گریز کیا جائے۔

کابینہ اجلاس کے بعد مہر خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں نائب صدر محمد جعفر قائم پناہ نے کہا کہ صدر نے حکم دیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف کوئی سکیورٹی اقدامات نہ کیے جائیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جو افراد آتشیں اسلحہ، چاقو یا دیگر ہتھیاروں کے ساتھ پولیس تھانوں اور فوجی تنصیبات پر حملہ کریں، انہیں مظاہرین سے الگ کر کے شرپسند سمجھا جائے گا۔ مجموعی طور پر، ایران ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معاشی مشکلات اور عوامی ناراضی نے حکومت اور سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان کھڑا کر دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔