امریکی حملوں میں گزشتہ مئی میں کم از کم 39 افغان شہری ہلاک: اقوام متحدہ

مغربی افغانستان میں گزشتہ پانچ مئی کو مبینہ طور پر منشیات سازی کے کارخانوں پر امریکی فضائی حملوں میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک خاتون اور 14 بچے بھی شامل تھے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

کابل: مغربی افغانستان میں گزشتہ پانچ مئی کو مبینہ طور پر منشیات سازی کے کارخانوں پر امریکی فضائی حملوں میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک خاتون اور 14 بچے بھی شامل تھے۔

افغانستان میں پانچ مئی 2019 کو ہونے والے ان حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ۔ یہ حملے مغربی فراہ صوبے کے بکواہ ضلع اور نیمروز صوبے کے ضلع دلارام کے کچھ حصوں میں کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ ان مزید 37 شہریوں کی ہلاکتوں کی معتبر اطلاعات کی توثیق کی کوشش میں مصروف ہے۔ جن کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

واضح رہے کہ 2018 میں افغانستان میں 6 ہزار 400 ٹن افیم پیدا کی گئی تھی۔ افغانستان افیم اور دیگر منشیات کی غیرقانونی تجارت کے لئے بدنام ہے۔ زیادہ تر افیم ملک کے مغربی اور جنوبی حصوں میں پیدا ہوتی ہے جہاں افغان سیکورٹی دستوں کا عمل دخل برائے نام ہے۔ بہت سے افغان باشندے روزی کمانے کے لئے دورافتادہ علاقوں میں منشیات سازی کے ان کارخانوں میں یومیہ مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔