چاند سے واپس آ رہے خلاباز عجیب مشکل میں! دوران سفر بند ہو گیا 192 کروڑ روپے کا ٹوائلٹ

فی الحال چاروں خلاباز ذاتی طور پر دوبارہ استعمال کے قابل کنٹینرز استعمال کر رہے ہیں، جنہیں کولپس ایبل کنٹیجنسی یورین ڈسپوزل ڈیوائسز کہتے ہیں۔ یہ مسئلہ لفٹ آف کے چند گھنٹے بعد ہی شروع ہو گیا تھا

<div class="paragraphs"><p>تصویر : ناسا ایکس ہینڈل</p><p><a href="https://x.com/NASA">@NASA</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

چاند کے چاروں سمت کامیاب چکر لگانے کے بعد اورین خلائی جہاز زمین کی طرف واپس آ رہا ہے۔ ابھی تک تو سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن اس میں موجود 23 ملین ڈالر (تقریباً 192 کروڑ روپے) کا ٹوائلٹ اچانک خراب ہو گیا۔ پیشاب کو خلا میں ہی پھینکنے والے نظام نے کام کرنا بند کردیا ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا خیال ہے کہ یورین سسٹم میں کیمیائی رد عمل کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ غلاظت نکالنے والا الگ نظام ٹھیک ٹھاک کام کر رہا ہے۔

خلاباز کرسٹینا کوچ نے کہا کہ یونیورسل ویسٹ مینجمنٹ سسٹم سے جلتے ہوئے ہیٹر جیسی بدبو آرہی ہے۔ فلائٹ ڈائریکٹر رک ہینفلنگ نے بتایا کہ ٹوائلٹ اب بھی کام کر رہا ہے، لیکن مسئلہ گندے پانی کے ٹینک کو خالی کرنے کا ہے۔ وینٹ یعنی نکاسی کم ہوگئی ہے، لہذا عملے کو بیک اپ استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ فی الحال چاروں خلاباز ذاتی طور پر دوبارہ استعمال کے قابل کنٹینرز استعمال کر رہے ہیں، جنہیں کولپس ایبل کنٹیجنسی یورین ڈسپوزل ڈیوائسز کہتے ہیں۔ یہ مسئلہ لفٹ آف کے چند گھنٹے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔ کرسٹینا کوچ نے سسٹم کے کنٹرولس ایڈجسٹ کئے اور مشن کنٹرول کی مدد سے اسے دوبارہ شروع کیا۔ پہلے تو ایسا لگ رہا تھا کہ پریشانی دور ہوگئی ہے۔ کوچ نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خلائی پلمبر کہنے پر فخر محسوس کررہی ہوں۔ انہوں نے ٹوائلٹ کو خلائی جہاز کا سب سے ضروری سامان قرار دیا۔


مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ خلاباز اب بھی پیشاب کو خلا میں پھینک نہیں پارہے ہیں۔ یہ مسئلہ ہیوسٹن کے جانسن اسپیس سنٹر میں ہونے والی ہر پریس کانفرنس کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ یہ وہی سینٹر ہے جہاں خلاباز جیک سوئگرٹ نے اپالو 13 کے دوران 1970 میں اعلان کیا تھا کہ ہیوسٹن، ہماری پریشانی ہے۔ اس وقت ایک آکسیجن ٹینک پھٹ جانے سے مشن منسوخ ہوگیا تھا لیکن تینوں خلاباز بحفاظت واپس لوٹ آئے تھے۔

پہلے ناسا کو محسوس ہوا کہ فلٹر میں برف جمنے کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اس خلائی جہاز کا رخ سورج کی طرف کر دیا گیا اور ہیٹر چالو کئے گئے لیکن ریک ہینفلنگ نے بتایا کہ مسئلہ برف کا نہیں ہے، اب نئی تھوری یہ ہے کہ یورین کو بیکٹیریا اور مائکروجنزموں سے پیشاب کی حفاظت کے لئے استعمال ہونے والے کیمیکلز کے رد عمل سے کچھ کچرا بن رہا ہے جو فلٹر میں پھنس گیا ہے۔ اورین خلائی جہاز کا ٹوائلٹ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) والے ٹوائلٹ جیسا ہےلیکن یہ پہلی بار کسی کروڈ ڈیپ اسپیس مشن میں استعمال ہو رہا ہے۔ اپالو مشن کے خلابازوں کے پاس ٹوائلٹ نہیں تھا۔ انہوں نے خصوصی بیگ استعمال کیا. اورین 5 میٹر چوڑا اور 3 میٹر اونچا ہے۔


ٹوائلٹ فرش کے نیچے ہے، یہ واحد جگہ ہے جہاں خلاباز اکیلے رہ سکتے ہیں۔ اس کے اندر بہت شور ہوتا ہے، اس لیے کان کی حفاظت ضروری ہے۔ مائیکرو گریویٹی میں کام کرنے کے لیے ایک سکشن سسٹم نصب ہے۔ غلاظت کو ڈسپوزایبل بیگ میں رکھ کر دبایا جاتا ہے اور زمین پر واپس لایا جاتا ہے۔ ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر لوری گلیز نے کہا کہ جیسے ہی خلائی جہاز زمین پر اترے گا، ہم اندر جاکر مسئلے کی جڑ تک پہنچیں گے۔ اورین جمعہ کو بحر الکاہل میں اترے گا۔ یہ چھوٹا سا مسئلہ خلائی مشن کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ 23 ملین ڈالرٹوائلٹ بھی مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔