آرٹیمس 2: اورین میں نصب 32 کیمرے اور کریو کے 17 ہینڈہیلڈ ڈیوائس نے زمین-چاند کی خوبصورت تصاویر کیں قید
ناسا نے آرٹیمس 2 مشن کے دوران لی گئی زمین اور چاند کی حیرت انگیز تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہیلو چاند، یہاں آ کر بہت اچھا لگا۔‘‘

امریکی اسپیس ایجنسی ناسا نے آرٹیمس 2 مشن کے دوران لی گئی زمین اور چاند کی حیرت انگیز تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کی ہیں۔ ان تصاویر کو پوسٹ کرتے ہوئے ناسا نے لکھا کہ ’’ہیلو چاند، یہاں آ کر بہت اچھا لگا۔‘‘ آرٹیمس 2 کے خلائی مسافر چاند کا چکر لگاتے ہوئے اس کے ان حصوں کو دیکھ پائے، جنہیں انسانی آنکھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے ان انوکھے نظاروں کو تصاویر اور الفاظ میں قید کر لیا، جو ہم آپ کو دکھا رہے ہیں۔ آرٹیمس 2 مشن کے دوران خلائی مسافر ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن نے زمین اور چاند کے کئی یادگار نظارے کیمرے میں اتارے اور مسلسل شیئر کر رہے ہیں۔ ان میں پہلی بار اسمارٹ فون سے لی گئی خلائی تصاویر بھی شمال ہیں۔
اورین اسپیس کرافٹ میں مجموعی طور پر 32 کیمرے اور 70 فوٹو-ویڈیو لینے والے آلات نصب ہیں۔ ان میں 15 کیمرے اسپیس کرافٹ پر ہی لگے ہوئے ہیں، جو لانچر، سولر ایرے ڈپلائمنٹ، چاند کے چاروں طرف سفر اور دیگر اہم لمحات کو ریکارڈ کر رہے ہیں۔ بقیہ 17 ہینڈہیلڈ ڈیوائس چاروں خلائی مسافرین کے پاس ہیں، جن میں نکان ڈی 5 ڈی ایس ایل آر، نکان زیڈ 9 مِررلیس کیمرہ، گروپو اور اسمارٹ فون شامل ہیں۔ یہ تمام آلات انجنیئرنگ، نیوی گیشن، کریو کی نگرانی اور چاند سے متعلق سائنس اور آؤٹ ریچ سرگرمیوں میں مدد کر رہے ہیں۔
ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ پر لگے بیرونی کیمرے سولر ایرے سے لے کر کیبن کے اندرونی نظارہ تک ہر زاویہ سے مشن کو قید کر رہے ہیں۔ ایک خاص آپٹیکل نیوی گیشن کیمرہ زمین اور چاند کی تصاویر لے کر اسپیس کرافٹ کو گہرے خلا میں اپنی پوزیشن طے کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ 4 اراکین پر مشتمل عملے نے ان جدید کیمروں کی مدد سے زمین کی ایسی تصاویر لی ہیں، جن میں شمالی اور جنوبی دونوں جانب آرورا لائٹ بھی ایک ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ کچھ تصاویر اسمارٹ فون سے لی گئی ہیں، جو خلائی پرواز کے لیے پہلی بار منظور ہوئی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ آرٹیمس 2 کی کچھ ابتدائی تصاویر 1968 میں اپولو 8 مشن کے دوران بِل اینڈرس کے ذریعہ لی گئی مشہور ’آرتھرائز‘ (طلوع ارض) کی تصویر کی یاد دلاتی ہے۔ اس وقت ہیسلبلیڈ فلم کیمرہ اور 250 ملی میٹر لینس کا استعمال ہوا تھا۔ آج آرٹیمس 2 کے خلائی مسافرین کے پاس 400-80 ملی میٹر ٹیلی فوٹو لینس اور بہتر ڈیجیٹل کیمرے دستیاب ہیں، جس سے ہائی کوالیٹی والی تصاویر لینا آسان ہو گیا ہے۔ پھر بھی پرواز کی رفتار اور وقت کی وجہ سے بالکل ویسی ہی تصویر دوبارہ قید کرنا چیلنجنگ رہا۔