کیمپ کی حالت ناگفتہ بہ: شامی کیمپ میں 117 بچوں کی موت

شام کے شمال مشرق میں مہاجرین کے لئے بنائے گئے ایک کیمپ میں ناگفتہ بہ انسانی حالات کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں 117 بچوں کی موت ہو گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

دمشق: شام کے شمال مشرق میں مہاجرین کے لئے بنائے گئے ایک کیمپ میں ناگفتہ بہ انسانی حالات کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں 117 بچوں کی موت واقع ہوگئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ شام کے ایک کیمپ میں سخت انسانی حالات کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ کے دوران 117 بچوں کی موت ہو گئی جن میں سے زیادہ تر بچے 12 سال سے کم عمر کے تھے۔ اس نے بتایا کہ ان میں سے 60 فیصد بچوں کی موت گزشتہ 19 دن کے اندر واقع ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ شام کے الہول کیمپ میں نامساعد انسانی حالات کے بارے میں کئی بیان جاری کر چکا ہے. اس نے جمعرات کو اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ کیمپ میں دسمبر 2018 سے انسانی بحران کی صورتحال ہے۔ اس کیمپ میں تقریبا 67000 لوگ رہتے ہیں جن میں سے 90 فیصد باغوز سے جان بچا کر بھاگی خواتین اور بچے ہیں۔

باغوز شام میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے قبضے والا آخری شہر ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں گنجائش سے زیادہ لوگ رہ رہے ہیں اور یہ رہنے کے لائق نہیں ہے۔ لوگ انتہائی خراب موسم میں بھی زمین پر سونے کے لئے مجبور ہیں جس سے ان کی صحت پر سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا کہ امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے باغوز میں آئی ایس کے خلاف مہم ملتوی کر دی ہے کیونکہ اس نے ایس ڈی ایف کے بہت سے فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایس ڈی ایف مشرقی شام میں گذشتہ ستمبر سے آئی ایس کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔