’میرے گاؤں کے قریب 200 افراد لاپتہ ہیں‘، نیپال میں سیلاب سے بچ جانے والوں نے سنائی تباہی کی خوفناک داستان

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی کئی بستیوں میں ملبہ ہی ملبہ نظر آ رہا ہے۔ متاثرین کے مطابق ایک گاؤں کے قریب 200 افراد لاپتہ ہیں، جبکہ مواصلاتی ڈھانچے کی تباہی نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں سیلاب کی تباہی کا منظر، تصویر یو این آئی</p></div>
i

نیپال میں تباہ کن سیلاب اور اچانک آنے والے پانی کے ریلوں کے تقریباً ایک ہفتے بعد بھی متاثرہ علاقوں میں تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ آفت سے بچائے گئے اور عارضی کیمپوں میں پناہ لیے افراد نے اپنی دردناک داستانیں بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کئی بستیاں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

مستونگ کے ایک بدھ مٹھ میں قائم عارضی کیمپ میں مقیم ایک شخص نے بتایا کہ ان کے گاؤں کا تقریباً 80 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے اور مقامی آبادی کے قریب 200 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تِمورے سے لوگوں کو انتہائی مشکل حالات میں بچا کر کیمپ تک پہنچایا گیا، جبکہ گاؤں کے صرف تقریباً 20 فیصد افراد ہی محفوظ مقام تک پہنچ سکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلے سے کھٹمنڈو یا دیگر علاقوں میں مقیم تھے، وہ محفوظ ہیں، لیکن گاؤں میں موجود لوگوں کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ ان کے مطابق صورت حال انتہائی خراب ہے اور بڑی تعداد میں لوگ ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔ آفت کی شدت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ معمول کے روزمرہ کاموں میں مصروف تھے کہ اچانک سیلابی ریلے نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان کے مطابق صرف دو منٹ کے اندر پورا گاؤں بہہ گیا اور وہاں سے صرف 8 سے 10 افراد کو ہی بچایا جا سکا، جبکہ باقی لوگ سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

متاثرہ شخص نے قومی اور بین الاقوامی تنظیموں سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے پاس اب کچھ نہیں بچا۔ ان کے بقول گھر اور روزگار کے تمام ذرائع ختم ہو چکے ہیں اور لوگ ’صفر‘ پر پہنچ گئے ہیں۔


نیپال کے شدید متاثرہ علاقوں میں شامل تریشولی کے ایک رہائشی نے بھی تباہی کی دردناک تصویر پیش کی۔ اس نے بتایا کہ سیلاب میں اس کا گھر اور دکان مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ پانی پانچویں منزل تک پہنچ گیا تھا اور دکان کا تمام سامان بہہ گیا۔ اوپری کمروں میں بھی پانی داخل ہو گیا، تاہم کچھ سامان بچانے میں کامیابی ملی۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچنے اور لوگوں میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں، لیکن مواصلاتی نظام کی تباہی امدادی سرگرمیوں اور متاثرین کے اپنے اہل خانہ سے رابطے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

تریشولی میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے میں مصروف نیپال ٹیلی کام کے ایک تکنیکی ماہر نے بتایا کہ سیلاب سے مواصلاتی ڈھانچہ بری طرح تباہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم انٹرنیٹ کنکشن بحال کرنے کے لیے پہنچی ہے، لیکن مجموعی نقصان کا مکمل اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکا ہے۔

تکنیکی ماہر کے مطابق تقریباً 6 سے 7 لاکھ نیپالی روپے مالیت کا سامان تباہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تریشولی میں انٹرنیٹ سروس آج یا کل تک بحال ہونے کی امید ہے، جبکہ اس سے آگے کے متاثرہ علاقوں میں خدمات بحال کرنے میں کم از کم تین دن یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔