نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 1204 ہوئیں، 4216 افراد اب بھی لاپتہ، سیکڑوں غیر ملکی بھی شامل

نیپال میں 26 اگست کو برفانی تودہ گرنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب میں 1204 افراد ہلاک اور 4216 لاپتہ ہیں۔ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کو تباہی کی بڑی وجہ قرار دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں سیلاب کے بعد تباہی کا منظر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نیپال میں 26 اگست کو برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 1204 ہو گئی ہے، جبکہ 4216 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں بھوٹیکوشی دریا کے کنارے سرنگوں اور زیر زمین بجلی گھروں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلسل بارش، ملبے اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

وزیراعظم بالیندر شاہ نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہی کے موسمیاتی تبدیلی سے تعلق کا معاملہ عالمی برادری کے سامنے مضبوطی سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمالیائی خطے میں رہنے والے لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے خطرات کا سامنا ہے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کی ذمہ داری عالمی برادری کی بھی ہے۔

نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق چتوان میں 348، نوالپاراسی ایسٹ میں 217، نوالپاراسی ویسٹ میں 202، نواکوٹ میں 155، رسوا میں 115، گورکھا میں 69، دھادنگ میں 60 اور تنہو میں 38 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لاپتہ افراد میں 583 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

نیپالی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیموں نے اب تک ہیلی کاپٹر اور زمینی راستوں سے 11,993 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، جبکہ تقریباً 21,314 سکیورٹی اہلکار تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔


نیپال پولیس کے مطابق 1113 لاشوں کا پوسٹ مارٹم اور قانونی شناخت کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جن میں سے 95 لاشیں لواحقین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔ 911 نامعلوم لاشوں کی تفصیلات پولیس کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی ہیں تاکہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ شناخت میں مدد حاصل کر سکیں۔ کئی خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کی علامتی آخری رسومات ادا کر رہے ہیں، جبکہ بدھ کو پشوپتی آریا گھاٹ میں درجنوں علامتی پتلے اجتماعی طور پر نذرِ آتش کیے گئے۔

سیلاب سے مختلف پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے 947 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں 216 میگاواٹ کے اپر ترشولی-1 منصوبے سے 557 سے زیادہ افراد شامل ہیں۔ اپر ترشولی-3 اے منصوبے میں 42 افراد کے زیر زمین پاور ہاؤس میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ اپر ترشولی-3 بی میں 191، رسواگڑھی منصوبے میں 93 اور لنگ ٹانگ کھولا منصوبے میں 41 افراد لاپتہ ہیں۔

ریسکیو ٹیموں میں نیپالی فوج، آرمڈ پولیس فورس، غیر ملکی تکنیکی ماہرین اور پن بجلی منصوبوں کے ملازمین شامل ہیں۔ ٹیمیں سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن دریا کے ساتھ بہہ کر آنے والے ملبے نے سرنگوں کے داخلی راستوں کو ڈھانپ دیا ہے، جس سے ان کا درست مقام تلاش کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، ملبے سے بند سڑکیں کھولنے اور امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم رسوا اور نواکوٹ میں مسلسل بارش نے ریسکیو آپریشن متاثر کیا ہے۔ محکمہ آب و ہوا و آب پاشی کے مطابق پہاڑی علاقوں میں مزید شدید بارش کا امکان ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔


سیلاب سے تقریباً 400 میگاواٹ پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، رسوا-نواکوٹ علاقے میں 40 کلومیٹر پختہ سڑکیں تباہ اور مزید 16 کلومیٹر کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ 42 معلق پل اور 31 موٹر گاڑیوں کے قابل پل بھی متاثر ہوئے ہیں۔

وزیراعظم شاہ نے کہا کہ ہندوستان، پاکستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، امریکہ، آسٹریلیا، قطر، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، جاپان اور سنگاپور سمیت متعدد ممالک نے امداد فراہم کی ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔