آرمینیا-آذربائیجان جھڑپ: فوجی ہلاکتوں کی تعداد 58 ہو گئی، اقوام متحدہ میں تبادلہ خیال متوقع

آرمینیا-آذربائیجان کی فوج کے مابین ہونے والی پُرتشدد جھڑپ میں تقریباً 50 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد جرمنی سمیت متعدد دیگر یوروپی ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تبادلہ خیال کرنے کی درخواست کی ہے

تصویر بشکریہ ڈی ڈبلیو
تصویر بشکریہ ڈی ڈبلیو
user

قومی آوازبیورو

اقوام متحدہ: آرمینیا اور آذربائیجان کی فوج کے مابین ہونے والی پُرتشدد جھڑپ میں تقریباً 50 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد جرمنی سمیت متعدد دیگر یوروپی ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تبادلہ خیال کرنے کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یوروپی ممالک نے منگل کے روز سلامتی کونسل میں ایک اجلاس طلب کیا ہے اور اس معاملے پر بات کرنے کی درخواست کی ہے۔

واضح رہے کہ ارمینیا اور آذربائیجان کی فوج کے مابین نگورنو قاراباخ خطہ پر جھڑپ شروع ہوئی تھی۔ آرمینیا کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ نگورنو کاراباخ خطہ میں آذربائیجان کی فوج کے ساتھ جھڑپ میں اس کے 16 فوجی ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ وہیں آرمینیا کی فوج کو بھی جانی نقصان پہنچا ہے۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشنین نے ٹویٹ کیا کہ آذربائیجان نے ارتسخ پر میزائل سے حملہ کیا ہے جس سے رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پشنین کے مطابق ارمینیا نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آذربائیجان کے دو ہیلی کاپٹر ، تین یو اے وی اور دو ٹینک تباہ کردیئے ۔ اس کے بعد ارمینیا ئی وزیر اعظم نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب آذربائیجان نے بھی جزوی طور پر ملک میں مارشل لاء نافذ کیا ہے۔ آذربائیجان نے تمام بین الاقوامی پروازوں کے لئے اپنے ہوائی اڈے بند کردیئے ہیں۔ صرف ترکی کو ہی اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ ترکی نے آذربائیجان کو کھلے عام اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے آرمینیا اور آذربائیجان سے فوری طور پر نگورنو کاراباخ خطے میں جنگ بندی پر عمل درآمد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد ہی دونوں ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کرکے اس پر تبادلہ خیال کریں گے۔

خیال رہے آرمینیا اور آذربائیجان دونوں سابق ​​سوویت یونین کا حصہ تھے۔ لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دونوں ممالک آزاد ہوگئے۔ علیحدگی کے بعد دونوں ممالک کے مابین نگورنوکاراباخ خطے پر تنازعہ پیدا ہوا۔ دونوں ممالک اس پر اپنا اپنا قبضہ پر زور دیتے رہے ہیں۔ 4400 مربع کلومیٹر کے اس رقبے کو بین الاقوامی قوانین کے تحت آذربائیجان کاحصہ قرار دیا گیا ہے ، لیکن یہاں آرمینیائی نژاد کی آبادی زیادہ ہے۔

اسی وجہ سے1991 سے دونوں ممالک کے مابین تنازعہ چل رہا ہے۔1994 میں روس کی ثالثی کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی ہوئی تھی ، لیکن اس کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین چھٹ پٹ لڑائی جاری ہے۔ دونوں ممالک کے مابین تب ہی سے ’لائن آف کنٹیکٹ‘ موجود ہے۔ لیکن اس سال جولائی کے مہینے کے بعد سے حالات مزید خراب ہوگئے۔ یہ علاقہ ارتسخ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

    next