پہلی مرتبہ عربی مصنفہ کو ملا ’مین بکر انٹرنیشنل پرائز‘، جوخۃ الحارثی نے جیتا ’دِل اور دماغ‘

2019 کے لیے بکر پرائز عمان کی باشندہ جوخۃ الحارثی کو ملا ہے جنھوں نے اپنی کتاب عربی میں ’سیدات القمر‘ کے نام سے لکھی۔ اس کا انگریزی ترجمہ ’سیلسٹیل باڈیز‘ کے نام سے شائع ہوا جس کی خوب تعریف ہو رہی ہے۔

تصویر سوشل میدیا
تصویر سوشل میدیا

قومی آوازبیورو

جوخۃ الحارثی نے ’مین بکر انٹرنیشنل پرائز‘ حاصل کر نہ صرف عربی زبان کی پہلی مصنفہ ہونے کا تاج اپنے سر پہن لیا ہے بلکہ وہ عمان کی بھی پہلی مصنف یا مصنفہ ہیں جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ابھی تک عربی زبان کے کسی مصنف کو یہ ایوارڈ نہیں ملا تھا اس لیے جیسے ہی جوخۃ الحارثی کو یہ اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا، پوری دنیا میں ان کی تعریفیں ہونے لگیں۔ خصوصی طور پر عمان میں ادبی حلقہ کے درمیان کافی جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔

دراصل جوخۃ الحارثی نے عربی زبان میں ’سیدات القمر‘ کے نام سے ناول لکھا تھا جس کا انگریزی ترجمہ ’سیلسٹیل باڈیز‘ کے نام سے کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کہانی تین بہنوں اور ایک ریگستانی ملک کی ہے جو غلامی کی اپنی تاریخ سے باہر نکل کر پیچیدہ جدید دنیا کے ساتھ تال میل بنانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ایک ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ یہ ناول عمان کے نوآبادیاتی ارتقائی دور سے قبل کی کہانی بیان کرتا ہے۔ کتاب کے تعلق سے ایوارڈ پینل میں شامل اور مورخ بٹینی ہگس نے جو کچھ کہا وہ اس کتاب کی اہمیت و افادیت کو بھرپور طریقے سے ظاہر کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جس ناول کو اس سال کے مین بکر پرائز کے لیے منتخب کیا گیا ہے اس نے دِل اور دماغ دونوں جیت لیا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ عربی کتاب ’سیدات القمر‘ کا ترجمہ ماریلن بوتھ نے ’سیلسٹیل باڈیز‘ کے نام سے کیا اور جب جوخۃ الحارثی کو مین بکر پرائز دیا گیا تو وہ بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔ سوشل میڈیا پر حارثی اور ماریلن کی ایک ساتھ تصویریں خوب وائرل ہو رہی ہیں اور دونوں ہی بہت خوش نظر آ رہی ہیں۔ خبروں کے مطابق جوخۃ الحارثی نے انعام میں ملی 50 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 44 لاکھ روپے) کی رقم ماریلن بوتھ کے ساتھ شیئر کرنے کا ارادہ بھی کیا ہے۔

40 سالہ جوخۃ الحارثی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے اس ناول سے پہلے مختصر کہانی کے دو مجموعے عربی زبان میں لکھے اور عربی میں ہی انھوں نے بچوں کے لیے بھی ایک کتاب تحریر کی۔ انھوں نے تین ناول بھی اس زبان میں لکھے۔ جوخۃ الحارثی نے ایڈنبرک یونیورسٹی میں کلاسیکی عربی نثر کا مطالعہ کیا اور اس وقت وہ مسقط میں واقع سلطان قابوس یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہیں۔ ’سیدات القمر‘ کا ترجمہ کرنے والی ماریلن بوتھ امریکہ میں تعلیم و تعلم سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربی ادب پڑھاتی ہیں۔

Published: 22 May 2019, 8:10 PM