ایچ ون بی ویزا کے تعلق سے امریکہ کا اہم اقدام، ہندوستانی-امریکیوں کو فائدہ ملنے کی امید

امریکہ کی جو بائیڈن انتظامیہ نے ایمیگریشن کے حوالہ سے مثبت اقدام اٹھاتے ہوئے ایچ ون بی (H-1B) ویزا ہولڈرز کے شریک حیات کو کام کرنے کا پرمٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکہ کی جو بائیڈن انتظامیہ نے ایمیگریشن کے حوالہ سے مثبت اقدام اٹھاتے ہوئے ایچ ون بی (H-1B) ویزا ہولڈرز کے شریک حیات کو کام کرنے کا پرمٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا ہزاروں ہندوستانی امریکی خواتین کو فائدہ حاصل ہونے کی امید ہے۔ اس تعلق سے ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کلاس ایکشن مقمہد میں سمجھوتہ کیا گیا ہے، جسے امریکن ایمیگریشن لائرس ایسوسی ایشن (اے آئی ایل اے) کی جانب سے موسم گرما میں مہاجرین کے شریک حیاتوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔

اے آئی ایل اے کی جانب سے جان واسڈین نے کہا، ’’یہ ایچ-4 ویزا ہولڈر ایسے افراد ہیں ہیں جو ایمپلائمنٹ اتھارائزیشن دستاویز کی فطرتی توسیع کے لیے ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرتے ہیں لیکن ایجنسی کی جانب سے ماضی میں انہیں دوبارہ اجازت دینے کے اہل ہونے کے لیے فوائد سے انکار کیا گیا ہے۔‘‘ انہیں پھر سے منظوری کے لئے انتظار کرنا پڑا ہے۔ عدم منظوری کی وجہ سے وہ بغیر کسی معقول وجہ کے اپنی موٹی تنخواہ والی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ واسڈین نے کہا کہ اس کی وجہ سے امریکی کاروبار کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔


اے آئی ایل اے ڈائریکٹر آف فیڈرل لٹیگیشن جیسی بلیس نے کہا، ’’ہم اس فیصلے پر پہنچ کر خوش ہیں اور یہ ایچ-4 ویزار ہولڈرز کے لئے ایک بڑی راحت ثابت ہوگا۔ غورطلب ہے کہ بارک اوباما انتظامیہ نے ایچ-1 ویزا رکھنے والوں کو میاں بیوی کے مخصوص زمروں میں کام کرنے کا حق فراہم کیا تھا۔ اب تک 90 ہزار سے زیادہ ایچ-4 ویزا ہولڈرز، جن میں بڑی تعداد میں ہندوستانی نژاد امریکی خواتین بھی شامل ہیں، جنہیں کام کی اجازت حاصل ہو چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔