’دو تصاویر ایک منظر‘ ویتنام میں شکست کے 46 سال بعد کابل سے امریکیوں کا فرار

تاریخ کے اپنے آپ کو دہرانے کی تازہ مثال امریکہ کی افغانستان میں شکست اور فرار سے لی جا سکتی ہے۔ 46 سال پیشتر امریکہ نے ویتنام چھوڑا تو امریکی فوج کو اپنا سفارتی عملہ ہنگامی حالت میں وہاں سے نکالنا پڑا

دو تصاویر ایک منظر / العربیہ ڈاٹ نیٹ
دو تصاویر ایک منظر / العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

کابل: تاریخ عام طور پر اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اس کی تازہ مثال امریکہ کی افغانستان میں شکست اور فرار سے لی جا سکتی ہے۔ 46 سال پیشتر امریکہ نے ویتنام چھوڑا تو امریکی فوج کو اپنا سفارتی عملہ ہنگامی حالت میں وہاں سے نکالنا پڑا۔ چھیالیس سال بعد وہی منظر ایک بار پھر افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی اڈے پر دہرایا جا رہا ہے۔

اس وقت سوشل میڈیا پر دو تصاویر گردش کررہی ہیں۔ اگرچہ دونوں کے درمیان ایک بڑا زمانی اور مکانی فاصلہ ہے مگر دونوں کی کیفیت اور منظر ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہیں۔

پہلی تصویر ویت نام میں 1975 میں اور دوسرا افغانستان پیر [پندرہ اگست] سامنے آئی۔ایک تصویر میں ویت نام میں امریکی سفارت خانے کی چھت پر ہیلی کاپٹر میں سواریاں بیٹھانے کا عمل فلمایا گیا ہے۔ دوسری کابل میں اسی طرح کے انخلاء کے عمل کے دوران لی گئی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان کو طالبان کے حوالے کرکے وہاں سے نکل رہا ہے۔ ویت نام کے بعد افغانستان میں امریکہ کی دوسری طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے۔


ویت نام کی جنگ امریکہ کی سمندر پار جنگوں کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ تھی۔ اس کے بعد افغانستان کی جنگ سب سے طویل اور مہنگی ترین جنگ بن گئی۔ افغان جنگ میں اگرچہ امریکہ کو اتنا جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا مگر ویت نام کی جنگ کے مقابلے میں یہ بہت مہنگی پڑی۔

امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے منظر نے بہت سے مبصرین کی توجہ مبذول کرائی اور انہیں ویت نام سے امریکہ کے انخلا کے منظر کی یاد دلائی۔ تعداد کے لحاظ سے دونوں جنگیں امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین ہیں۔ ویت نام کی جنگ تقریبا 20 سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کے دوران امریکہ میں پانچ صدور بدلے۔ افغانستان میں جنگ (11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد سے آج تک 2021 تک) 20 سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کے دوران بھی یکے بعد دیگرے چار صدور بدلے۔

بیلنس ویب سائٹ کے مطابق امریکہ نے ویت نام کی جنگ پر 168 ارب ڈالر خرچ کیے جو آج 1 ٹریلین ڈالر کے برابر ہے۔ جبکہ ہلاکتوں کے اعتبار سے یہ امریکہ کے لیے ایک خوفناک جنگ تھی۔ 58000 سے زائد امریکی فوجی ویت نام کی جنگ میں مارے گئے جبکہ افغانستان میں انسانی قیمت کم چکانا پڑی اور کل 2500 فوجیوں کی جانوں کی قربانی دینا پڑی۔ نیو یارک ٹائمز کا اندازہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کی لاگت 2 کھرب ڈالر ہے۔


کیا مداخلت کے مقاصد پورے ہوئے؟

امریکہ شمال سے جنوب کی طرف کمیونسٹ پیش قدمی کو ختم کرنے کے لیے ویت نام میں داخل ہوا۔ افغانستان میں اس کے داخلے کا ہدف طالبان کو ختم کرنا اور القاعدہ کو مدد فراہم کرنے سے روکنا تھا۔ امریکی فوج شمال اور جنوب میں منقسم ویتنام کو متحد کرنے کے لیے شمالی سمت سے داخل ہوئی مگر آخر کار اقتدار شمالی ویتنام پر حکمران کمیونسٹ حکومت کے ہاتھوں میں آگیا۔

افغانستان میں وہی منظر دہرایا گیا۔ جہاں طالبان امریکی افواج کی روانگی سے قبل دارالحکومت کابل پر قبضہ کرنے اور ملک کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ اس نے طالبان کا وجود ختم کردیا ہے۔ مگر آج حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ویت نام میں امریکہ کا دعویٰ تھا کہ اس نے کیمونسٹوں کو کچل دیا ہے مگر امریکہ کو وہاں پرکیمونسٹوں کے ہاتھوں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑاتھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔