’اللہ اکبر‘ پیرس میں چاقو سے حملہ کرنے والے ملزم کا آخری پیغام 

پیرس کے پولس ہیڈ کوارٹرز میں گزشتہ ہفتے ایک چاقو سے ہلاکت خیز حملہ کرنے والے ملزم کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ملزم کا اپنی بیوی سے موبائل فون پر چیٹ کے دوران آخری پیغام ’اللہ اکبر‘ تھا۔

تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
تصویر ڈی ڈبلیو ڈی

ڈی. ڈبلیو

پیرس سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق فرانسیسی وزیر داخلہ کرسٹوف کاستانر اب ایک ایسا نیا نظام متعارف کرانا چاہتے ہیں، جس کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں، خاص طور پر ملکی پولس فورس کے اہلکاروں میں مذہبی انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے رجحانات کا بروقت پتہ چلایا جا سکے گا۔

کاستانر نے ریڈیو 'فرانس انٹر‘ کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پولس فورس میں کسی بھی طرح کی انتہا پسندی کو آئندہ ایک خود کار طریقے سے اعلیٰ حکام کو رپورٹ کیا جائے۔

انہوں نے یہ بات پیرس ہی میں گزشتہ ہفتے جمعرات کے روز کیے جانے والے ایک ایسے خونریز حملے کے تناظر میں کہی، جس میں پولس ہی کے ایک سویلین اہلکار نے چاقو سے حملے کر کے پیرس کے پولس ہیڈ کوارٹرز میں اپنے چار ساتھیوں کو قتل کر دیا تھا اور اس دوران وہ خود بھی موقع پر موجود ایک پولس اہلکار کی طرف سے فائرنگ میں مارا گیا تھا۔

فرانسیسی وزیر داخلہ نے آج پیر کے روز کہا، ''یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ اس واقعے میں فرانسیسی ریاست اپنے فرائض کی مکمل اور بھرپور ادائیگی میں ناکام رہی۔ تین اکتوبر کو جس مسلح پولس اہلکار نے چاقو سے حملہ کر کے چار پولس افسران کی جان لے لی، اس 45 سالہ ملزم کے بارے میں پولس کے ریکارڈ میں ایسی کوئی معلومات موجود ہی نہیں تھیں کہ وہ بنیاد پرست اور دہشت گردوں کا ہمدرد بن چکا تھا۔‘‘

فرانسیسی وزیر داخلہ کے مطابق، ''تین اکتوبر کو پیرس میں مجموعی طور پر پانچ انسانی ہلاکتوں کی وجہ بنے والے اس واقعے سے متعلق ایک سچ یہ بھی ہے کہ ریاست کی کارکردگی ناقص رہی اور اس حملے کے دوران خود بھی مارے جانے والے حملہ آور سے متعلق پولس کو ایسی کوئی اطلاع ہی نہیں تھی کہ اس کا رویہ مشکوک ہو چکا تھا، جس کی چھان بین ضروری تھی۔‘‘

ملکی اپوزیشن کا الزام

پیرس میں اس خونریز حملے کے بارے میں ملکی اپوزیشن کا وزیر داخلہ کاستانر پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے اس حملے کے ملزم سے متعلق اصل حقائق کو اس حملے کے بعد کے چند گھنٹوں میں چھپانے کی کوشش کی تھی۔ وزیر داخلہ لیکن اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پولس کو علم ہی نہیں تھا کہ اس کا یہ سویلین اہلکار انتہا پسندانہ سوچ کا حامل ہو چکا تھا۔

خونریز دہشت گردانہ واقعات کی چھان بین کرنے والے فرانسیسی ماہرین کے مطابق تین اکتوبر کے حملے کا مرکزی ملزم نہ صرف اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کا حامی بن چکا تھا بلکہ اس نے ان دہشت گردوں کے لیے بھی ہمدردی کا اظہار کیا تھا، جنہوں نے 2015ء میں فرانسیسی جریدے 'شارلی ایبدو‘ کے دفاتر پر ہلاکت خیز حملہ کیا تھا۔

ملزم کی اپنی بیوی سے چیٹ

فرانسیسی تفتیش کاروں کے مطابق اس حملے کے ملزم کا نام میکائل ہارپوں تھا، جو پیرس کے پولس ہیڈ کوارٹرز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک ماہر کے طور پر خدمات انجام دیتا تھا۔ تفتیشی ماہرین اب تک یہ پتہ بھی چلا چکے ہیں کہ ہارپوں انتہا پسند سلفی مسلمانوں کے ساتھ رابطوں میں تھا اور ان کے لیے ہمدردی محسوس کرتا تھا۔

اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ 2015ء میں جب جریدے 'شارلی ایبدو‘ کے دفاتر پر شدت پسند مسلمانوں نے خونریز حملے کیے تھے، تو میکائل ہارپوں نے 12 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے ان حملوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس پر اس کے بہت سے ساتھی کارکن حیران رہ گئے تھے لیکن اس واقعے کی متعلقہ پولس افسران نے اعلیٰ پولس اہلکاروں کو کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔

مزید یہ کہ تین اکتوبر کے حملے سے قبل ہارپوں کی اس کی 33 سالہ بیوی کے ساتھ موبائل فون پر جو چیٹ ہوئی تھی، اس میں ان دونوں کے مابین 33 پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔ پھر ہارپوں نے یکدم یہ چیٹ ختم کر دی تھی اور اس نے اپنے بیوی کو جو آخری پیغام بھیجا تھا، اس میں اس نے صرف دو لفظ لکھے تھے، ''اللہ اکبر۔‘‘

Published: 8 Oct 2019, 7:40 PM