افغانستان کی سرنگیں اُگل رہیں سونا، طالبان نے کانکنی کے لیے لگائے تقریباً ایک لاکھ مزدور، تیزی سے کام جاری
طالبان کے مطابق بدخشاں میں کانکنی کے لیے تقریباً ایک لاکھ لوگ کام کر رہے ہیں۔ یہاں سونا، لاپیس لازولی اور قیمتی پتھر بڑی مقدار میں ملتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ کانکنی شفاف نہیں ہے۔

طویل عرصہ تک جنگ اور شورش کا درد برداشت کرنے والے افغانستان کے بدخشاں صوبے میں ان دنوں سونے کی کانوں میں تیزی سے کان کنی چل رہی ہے۔ خبروں کے مطابق طالبان نے جس جگہ پر پہلے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں وہاں اب سونا اور قیمتی ہتھیار نکل رہے ہیں۔ طالبان کے مطابق بدخشاں کی کانوں کی کان کنی میں تقریباً ایک لاکھ لوگ کام کررہے ہیں۔ یہاں سونا، لاپیس لازولی اور متعدد قیمتی پتھر بڑی مقدار میں ملتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ کان کنی شفاف نہیں ہے اور قوانین پر ٹھیک سے عمل نہیں کیا جارہا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ بدخشاں کے حوالے سے طالبان کے اندر ہی لڑائی چل رہی ہے۔ کانوں پر قبضے کے لیے قندھار والے طالبان اور بدخشاں کے مقامی طالبان کے درمیان رسہ کشی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں بدخشاں میں کئی بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ مقامی افسران کو ہٹایا گیا، کچھ کو گرفتار کیا گیا اور کچھ کو دوسرے علاقوں میں بھیج دیا گیا۔ ان کی جگہ قندھار کے بھروسے مند لوگوں کو لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بدخشاں میں 1 ہزار جوانوں کا دستہ تعینات کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان سے مکالمہ: افغان خواتین کے لیے امید کی کرن
طالبان حکومت کہتی ہے کہ یہ فورس کانوں کی حفاظت کے لئے ہے لیکن مقامی لوگ مانتے ہیں کہ اس کا مقصد کانوں پر قندھار کا پورا کنٹرول کرنا اور مقامی کمانڈروں کی طاقت کم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق بدخشاں کے کئی مقامی کمانڈر کانوں سے بہت پیسہ کمارہے تھے۔ کچھ کمانڈر اتنے مضبوط ہوگئے تھے کہ وہ بڑے بڑے پروجیکٹ چلانے لگے تھے۔
اس سے طالبان کی اعلی قیادت کو لگا کہ کمانڈر زیادہ طاقتور اور بے قابو ہوجائیں گے جس کی وجہ سے کئی بڑے اقدامات کئے گئے ہیں۔ محکمہ کان کنی کے سربراہ شفیق اللہ حافظی کو برطرف کردیا گیا ہے اور ان کی جگہ دوسر صوبے کے عبدالمتین رحیم زئی کو لایا گیا ہے۔ درواز علاقے کے طاقتور لیڈر جمعہ خان فتح کو عہدے سے ہٹاکر جابل بھیج دیا گیا ہے کیونکہ ان پر قیادت کا بھروسہ متزلزل ہورہا تھا۔
اس کے علاوہ ارگو ضلع کے گورنر عبدالکبیر نظامی کو ایک جھڑپ کے بعد گرفتار کرلیا گیا ہے اور اب وہ ایک جیل میں ہیں۔ وہیں ایک اور بااثر شخص عبدالرحمان عمار کو بھی گرفتار کیا گیا کیونکہ انہوں نے باہری طالبان اور کمپنیوں کی مخالفت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں چین کی مدد سے 24 گھنٹے کان کنی ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف انتظامی معاملہ نہیں ہے بلکہ طالبان کے اندر پیسہ اور طاقت کی لڑائی ہے۔ قندھار کی قیادت کانوں پر پورا کنٹرول چاہتی ہے جبکہ مقامی کمانڈر اسے اپنے اختیارار پر خطرہ مانتے ہیں۔ اس لئے بدخشاں اب صرف کانوں کا نہیں بلکہ اقتدار کی لڑائی کا بڑا مرکز بن گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔